30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی بقا میں تفاوت پڑتاہے اورکثرت بعدو زیادت انتصاب مدار وارتفاع قمروطول مکث سب معین رویت ہیں اوران کی کمی مخل رؤیت،مگربلدین کریمین کے طول وعرض میں چنداں تفاوت کثیر نہیں اورجوکچھ ہے یعنی طول میں دو۲ درجے اورعرض میں تین درجے وہ مانحن فیہ میں ہرگز یہ نہ چاہے گا کہ مکہ معظمہ میں تورؤیت ہو اورمدینہ طیبہ میں نہ ہوبلکہ اگرمقتضٰی ہوگا تواس کے عکس کاکہ مقام جس قدرغربی ترہو امکان رؤیت بیشترہوگا کہ دورہ معدّل میں مواضع غربیہ پرنیرین کاگزرمواضع شرقیہ کے بعد ہوتاہے اورحرکت قمرتوالی بروج برغرب سے شرق کو ہے توجب موضع شرقی میں فصل قمرین حد رؤیت پرہو غربی میں اورزیادہ ہوگاکہ وہاں تك پہنچنے میں قمر نے قدرے اورحرکت شرق کوکی اورشمس سے اس کافاصلہ بڑھ گیا یوں ہی جب عرض مرئی قمرشمالی ہوجیساکہ یہاں تھاتوعرض بلد کاشمالی ترہونا موجب زیادت تعدیل الغروب زائدہوکر زیادت بعد معدل وطول مکث قمرہوگا مگرہے یہ کہ موانع رؤیت حدانضباط سے خارج ہیں تو دفع استحالہ وتوجیہ مقالہ کے لئے احتمال کافی اورقواعد پرنظرکیجئے توواقعی وہ دن مدینہ طیبہ میں رؤیت عادیہ کانہ تھا سلخ ذی القعدہ وسطیہ روزچارشنبہ کوغروب شرعی شمس کے وقت افق کریم مدینہ منورہ میں مؤامرہ رؤیت کے مقدمات یہ تھے۔

پرظاہرکہ جب بُعد معدّل وبعد سوادونوں دس درجے سے کم ہیں تویہ حالت حالت رؤیت نہیں قریب قریب اسی حالت کے مکہ معظمہ میں تھی مگرازانجاکہ وہ نودرجے یہ آٹھ درجے سے زائدہے رؤیت پرحکم استحالہ بھی نہ تھا حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی برکات بے نہایات کے حضوریہ کیا بات تھی کہ ایسے امکان غیرمتوقع کی حالت میں فضل وقفہ جمعہ ملنے کے لئے بحکم الٰہی مکہ معظمہ میں شام چارشنبہ کورؤیت واقع ہوگئی افق مدینہ طیبہ میں حسب عادت معہودہ نہ ہوئی پھر روز رؤیت ایام حمل ثور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع