30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چارشنبہ ہوتاہے اورپیرکی چھٹی اورتیرہویں،اوراگرتینوں ۲۹ کے لیں توغرہ روزیکشنبہ پڑتاہے اورپیرکی دوسری اورنویں، اوراگران میں کوئی ساایك ناقص اورباقی دوکامل لیجئے توپہلی سہ شنبہ کی ہوتی ہے اورپیرکی ساتویں چودھویں،اوراگرایك کامل دوناقص مانئے توپہلی پیرکی ہوتی ہے پھرپیرکی آٹھویں پندرھویں،غرض بارہویں کسی حساب سے نہیں آتی،اوران چارکے سواپانچویں کوئی صورت نہیں،قول جمہور پریہ اشکال پہلے امام سہیلی کے خیال میں آیا اوراسے لاحل سمجھ کرانہوں نے قول یکم اور امام ابن حجرعسقلانی نے دوم کی طرف عدول فرمایا۔
|
فی المواہب بعد ذکرالقول المشھور(استشکلہ السھیلی وذٰلك انھم اتفقوا ان ذا الحجہ کان اولہ یوم الخمیس)للاجماع ان وقفۃ عرفۃ کانت الجمعۃ (فمھما فرضت الشھور الثلٰثۃ توام اونواقص اوبعضھا لم یصح)ان الثانی عشر من ربیع الاول یوم الاثنین (قال الحافظ ابن حجروھو ظاھر لمن تاملہ وقد جزم سلیمٰن التیمی احد الثقات بان ابتداء مرضہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یوم السبت الثانی و العشرین من صفر ومات یوم الاثنین للیلتین خلتا من ربیع الاول فعلی ھذا یکون صفر ناقصا ولایمکن ان یکون اول صفر السبت الا ان یکون ذوالحجہ والمحرم ناقصین فیلزم منہ نقص ثلٰثۃ |
مواہب لدنیہ میں قول مشہورکے ذکرکے بعد ہے۔سہیلی نے اس پراعتراض واردکیاہے وہ یہ ہے کہ علماء ذوالحجہ کے جمعرات کوشروع ہونے پرمتفق ہیں کیونکہ وقوف عرفہ بروزجمعہ ہونے پراجماع ہے۔تواب اگرتینوں مہینے(ذوالحجہ،محرم، صفر)کامل(تیس تیس دن کے)فرض کئے جائیں یا تینوں ناقص(انتیس انتیس دن کے)فرض کئے جائیں یابعض کامل اوربعض ناقص فرض کئے جائیں کسی صورت میں یہ صحیح نہ ہوگا کہ بارہ ربیع الاول شریف پیرکے دن ہو۔حافظ ابن حجر نے کہایہ اشکال اس شخص پرظاہرہے جوتامل کرے۔ سلیمان تیمی جوکہ ثقہ ہیں قطعی طورپرکہاکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی بیماری کاآغاز بائیس صفربروزہفتہ ہوااور آپ کا وصال دوربیع الاول شریف کوہوا،اس حساب سے ماہ صفر ناقص ہوگا اورجب تك ذوالحجہ اورمحرم ناقص نہ ہوں صفرکا آغاز ہفتہ کے روزہوناممکن نہیں۔اس طرح تین مسلسل مہینوں کاناقص ہونالازم آئے گا جوکہ مسلسل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع