30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھم وکانہ شبہ علیہ خلتا بقیتا فان الحفاظ انما یذکرون ھٰھنا سوی المشھور قولین لاغیر۔ |
بروزپیروصال فرمایا اقول:(میں کہتاہوں)یہ وہم ہے گویاکہ قائل کو خَلَتَا کے بجائے بقیتا کااشتباہ ہواکیونکہ حفّاظ نے یہاں پرقول مشہورکے علاوہ فقط دوہی قول ذکرکئے ہیں(ت) |
تفصیل مقام وتوضیح مرام یہ ہے کہ وفات اقدس ماہ ربیع الاول روزدوشنبہ میں واقع ہوئی،اس قدرثابت ومستحکم ویقینی ہے جس میں اصلًا جائے نزاع نہیں۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری و مواہب لدنیہ وشرح زرقانی میں ہے:
|
(ثم ان وفاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی یوم الاثنین)کما ثبت فی الصحیح عن انس ورواہ ابن سعد باسانیدہ عن عائشۃ وعلی وسعد وعروۃ وابن المسیب وابن شھاب وغیرھم(من ربیع الاول بلا خلاف)کماقال ابن عبدالبربل کادیکون اجماعًا[1]۔ الخ |
(پھرحضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کاوصال پیرکے روزہے) جیسا کہ صحیح میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ثابت ہے۔ اس کو ابن سعد نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ سیدنا عائشہ صدیقہ،علی مرتضٰی،سعد،عروہ،ابن مسیب اورابن شہاب وغیرہ سے روایت کیاہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم(ربیع الاول میں وصال مبارك کے ہونے میں کوئی اختلاف نہیں) جیسا کہ ابن عبدالبرنے کہابلکہ تقریبًا اس پراجماع ہے الخ (ت) |
ادھریہ بلاشبہ ثابت کہ اس ربیع الاول سے پہلے جوذی الحجہ تھا اس کی پہلی روز پنجشنبہ تھی کہ حجۃ الوداع شریف بالاجماع روزجمعہ ہے،
|
وقد ثبت ذٰلك فی احادیث صحاح لامنازع لھا فلاحاجۃ بنا الی اطالۃ الکلام بسردھا۔ |
تحقیق یہ ایسی صحیح حدیثوں سے ثابت ہوچکاہے جن کاکوئی مزاحم نہیں لہٰذا ہمیں اس کی تفصیل میں طویل کلام کی کوئی ضرورت نہیں۔(ت) |
اورجب ذی الحجہ ۱۰ھ کی ۲۹روزپنجشنبہ تھی توربیع الاول ۱۱ھ کی ۱۲کسی طرح روزدوشنبہ نہیں آتی کہ اگرذی الحجہ،محرم، صفر تینوں مہینے ۳۰ کے لئے جائیں توغرہ ربیع الاول روز
[1] المواہب اللدنیۃ آخرالبعوث النبویۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱/ ۶۴۹،شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ آخرالبعوث النبویۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۱۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع