30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس دن سے نسی نسیًا منسیا ہوا اوریہی دورہ دوازدہ ماہہ قیامت تك رہا توکچھ بعیدنہیں کہ اس ذی الحجہ سے ربیع الاول تك نومہینے ہوں شاید شیخ محقق اسی نکتہ کی طرف مشیرہیں کہ زمانہ استقرار مبارك کوایام حج سے تعبیر کیا نہ کہ ذی الحجہ سے،اگر چہ اس وقت کے عرف میں اسے ذی الحجہ بھی کہناممکن تھا۔اقول:اب مسئلہ ثالثہ وخامسہ کی تصحیحوں پرمسئلہ اولٰی کاجواب ۱۲جمادی الآخرہ ہوگا مگرجاہلیت کادورنسیئی اگرمنتظم ماناجائے یعنی علی التوالی ایك ایك مہیناہٹاتے ہوں توسال استقرارحمل اقدس ذی الحجہ شعبان میں پڑتا ہے نہ کہ جمادی الآخرہ میں کہ ذی الحجہ حجۃ الوداع شریف جب عمراقدس حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے تریسٹھواں سال تھا ذی الحجہ میں آیا تو۱۲،۱۲کے اسقاط سے جب عمراقدس سے تیسراسال تھا ذی الحجہ میں ہوا اوردوسراسال ذی القعدہ اورپہلاسال شوال،ولادت شریفہ رمضان ااورسال استقرارحمل مبارك شعبان میں لیکن ان نامنتظموں کی کوئی بات منظم نہ تھی جب جیسی چاہتے کرلیتے،لٹیرے لوگ جب لوٹ مارچاہتے اورمہینا ان کے حسابوں اشہرحرم سے ہوتا،اپنے سردار کے پاس آتے اورکہتے اس سال یہ مہینا حلال کردے،وہ حلال کردیتا،اوردوسرے سال گنتی پوری کرنے کوحرام ٹھہرادیتا کمارواہ ابناء جریر والمنذر ومردویہ [1]وابی حاتم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما(جیساکہ اس کوجریر،منذر،مردویہ اور ابو حاتم کے بیٹوں نے سیدنا ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)تو اس سال جمادی الآخرہ میں ذی الحجہ ہوناکچھ بعید نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم
فائدہ:سائل نے یہاں تاریخ سے سوال نہ کیا اس میں اقوال بہت مختلف ہیں،دو۲،آٹھ۸،دس۱۰،بارہ۱۲، سترہ۱۷، اٹھارہ۱۸، بائیس۲۲،سات۷ قول ہیں مگراشہرواکثروماخوز ومعتبربارہویں ہے۔مکہ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ مکان مولداقدس کی زیارت کرتے ہیں کما فی المواھب [2]والمدارج(جیسا کہ مواہب لدنیہ اورمدارج النبوۃ میں ہے۔ت)اورخاص اس مکان جنت نشان میں اسی تاریخ مجلس میلاد مقدس ہوتی ہے۔ علامہ قسطلانی وفاضل زرقانی فرماتے ہیں:
|
المشھور انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولد یوم الاثنین ثانی عشر ربیع الاول وھو قول محمد بن اسحاق امام المغازی وغیرہ[3]۔ |
مشہوریہ ہے کہ حضورانورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بارہ ربیع الاول بروزپیرکو پیداہوئے،امام المغازی محمدبن اسحاق وغیرہ کایہی قول ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع