30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی مجمع البحار[1] (اس کو زبیرنے ذکرکیااور مجمع البحارمیں اسی پرجزم فرمایا۔ت)اوراصح یہ ہے کہ شب جمعہ تھی،اسی لئے امام احمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شب جمعہ کو شب قدر سے افضل کہتے ہیں کہ یہ خیروبرکت وکرامت وسعادت جو اس میں اُتری اس کے ہمسرنہ کبھی اُتری نہ قیامت تك اُترے،وہاں " تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا "[2] (اس میں فرشتے اورروح الامین اترتے ہیں۔ ت)یہاں مولائے ملائکہ وآقائے روح کانزول اجلال عظیم الفتوح ہے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔مدارج النبوۃ میں ہے:
|
استقرار نطفہ زکیّہ درایّام حج برقول اصح دراوسط ایام تشریق شب جمعہ بود،وازیں جہت امام احمد حنبل رحمۃ اﷲ علیہ لیلۃ الجمعہ رافاضل تر ازلیلۃ القدر داشتہ [3]الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم |
اصح قول کے مطابق نطفہ مطہرہ کااستقرارحج کے دنوں میں ایام تشریق کے درمیان جمعہ کی رات کوہوا۔اسی وجہ سے امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ شب جمعہ کو شب قدر سے افضل سمجھتے ہیں الخ(ت) |
مسئلہ ۲۱۹:ثالثہ مدت حمل شریف کس قدرتھی؟
الجواب:
دہ ۱۰ونہ۹ ہفت وشش۶ ماہ سب کچھ کہاگیا اورصحیح نو۹مہینے ہیں،
|
فی شرح الزرقانی للمواھب اختلف فی مدۃ الحمل بہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقیل تسعۃ اشھر کاملۃ و بہ صدر مغلطائی قال فی الغرر وھو الصحیح [4] الخ و اﷲ تعالٰی اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔ |
مواہب کی شرح زرقانی میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی مدت حمل میں اختلاف ہے،چنانچہ کہاگیاکہ پورے نوماہ ہے۔مغلطائی نے اسی قول کومقدم کیا۔غررمیں فرمایا کہ یہی صحیح ہے الخ،اﷲ تعالٰی درست بات کوخوب جانتاہے اوراسی کی طرف لوٹناہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع