30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بیانہ فیما اذا ترك ابنۃ عم لاب وامٍّ اولابٍ وابنۃ عمۃ فالمال کلہ لابنۃ العم لانھا ولد عصبۃ، ولوترك ابنۃ عم و ابنۃ خال اوخالۃ فلابنۃ العم الثلثان ولابنۃ الخال اوالخالۃ الثلث لان الجھۃ مختلفۃ ھنا فلا یترجح احدھما بکونہ ولد عصبۃ وھذا فی روایۃ ابن ابی عمران عن ابی یوسف فاما فی ظاھرالمذھب ولدالعصبۃ اولٰی سواء اختلفت الجھۃ اواتحدت لان ولدالعصبۃ اقرب اتصالابوارث المیت فکان اقرب اتصالا بالمیت فان قیل فعلٰی ھذا ینبغی ان العمۃ تکون احق بجمیع المال من الخالۃ لان العمۃ ولد العصبۃ وھو اب الاب،والخالۃ لیست بولد عصبۃ ولا ولد صاحب فرض لانھا ولد اب الام،قلنا لا کذٰلك فان الخالۃ ولدام الام وھی صاحبۃ فرض فمن ھذا الوجہ تتحقق المساواۃ بینھما فی الاتصال بوارث المیت،الا ان اتصال الخالۃ بوارث وھی امّ،فتستحق فریضۃ الام واتصال العمۃ بوارث وھو اب |
شخص حقیقی یاعلاتی چچاکی بیٹی اورپھوپھی کی بیٹی چھوڑکرفوت ہوا توتمام مال چچا کی بیٹی کوملے گا کیونکہ وہ عصبہ کی اولاد ہے۔اوراگرچچا کی بیٹی اورماموں یاخالہ کی بیٹی چھوڑکرفوت ہواتو چچا کی بیٹی کودوتہائی اورماموں یاخالہ کی بیٹی کوایك تہائی ملے گا،کیونکہ یہاں جہت مختلف ہے۔دونوں میں سے ایك کوعصبہ کی اولادہونے کی وجہ سے ترجیح نہ ہوگی۔یہ امام ابو یوسف علیہ الرحمہ سے ابن ابی عمران کی روایت ہے۔لیکن ظاہر مذہب میں عصبہ کی اولاد اولٰی ہے چاہے جہت مختلف ہو یامتحد،کیونکہ عصبہ کی اولاد کامیت کے وارث سے زیادہ قریبی تعلق ہے گویا میت سے اقرب ہے۔اگرکہاجائے اس بناء پر چاہئے کہ پھوپھی خالہ کی بنسبت تمام مال کی زیادہ حقدار ہو کیونکہ پھوپھی عصبہ یعنی دادا کی اولاد ہے جبکہ خالہ نہ توعصبہ کی اولاد ہے اورنہ ہی صاحب فرض کی،کیونکہ وہ نانا کی اولاد ہے۔توہم کہیں گے کہ اس طرح نہیں کیونکہ خالہ نانی کی اولاد ہے اوروہ صاحب فرض ہے۔اس اعتبار سے پھوپھی اورخالہ میں میت کے وارث سے متصل ہونے میں مساوات پائی جائے گی مگرخالہ کاجس وارث کے ذریعے تعلق ہے وہ ماں (نانی)ہے لہٰذا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع