30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے کے زیادہ لائق یہ ہے۔ت)علامہ محقق خیرالدین رملی [1]نے اسی پرفتوٰی دیا۔
اقول:بلکہ مبسوط امام سرخسی جلد ثلاثین ص۷ میں ہے:
|
اجمعنا انہ لوکان احدھما ولد عصبۃ اوصاحب فرض کان اولی من الاٰخر[2]۔ |
ہمارا اس پراجماع ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایك عصبہ یا صاحب فرض کی اولادہوتو وہ دوسرے سے اولٰی ہوگا(ت) |
اسی کے صفحہ ۵ میں ہے:
|
من کان منھم ولد عصبۃ اوصاحب فرض فانہ یقدم علی من لیس بعصبۃ ولاصاحب فرض[3]۔ |
ان میں سے جوعصبہ یاصاحب فرض کی اولاد ہووہ مقدم ہوگا اس پرجوعصبہ یاصاحب فرض نہیں۔(ت) |
اسی طرح علامہ سیدشریف نے زیرقول مصنف اولٰھم بالمیراث اقربھم[4] (ان میں میراث کازیادہ حقداروہ ہے جومیت کے زیادہ قریب ہے۔ت)نقل فرمایا اورمقرررکھا۔
پھر مبسوط امام سرخسی کا فی امام حاکم شہید کی شرح حامل المتن ہے جس میں انہوں نے کتب ظاہرالروایہ کوجمع فرمایاہے اس میں انہوں نے صرف اسے ظاہر الروایۃ ہی نہ فرمایا بلکہ قول اول کے روایت نادرہ ہونے کی بھی تصریح فرمائی اسی طرح تکملۃ البحر للعلامۃ الطوری میں ہے نیزہندیہ میں اسے مقرررکھا۔مبسوط کی عبارت یہ ہے:
|
ان کان احدھما ولد عصبۃ اوولد صاحب فرض فعند اتحاد الجہۃ یقدم ولدالعصبۃ وصاحب الفرض و عند اختلاف الجھۃ لایقع الترجیح بھذا بل یعتبر المساواۃ فی الاتصال بالمیت، |
اگردونوں میں سے ایك عصبہ یاصاحب فرض کی اولادہے تو اتحاد جہت کی صورت میں عصبہ اور صاحب فرض کی اولاد کو مقدم کیاجائے گا۔اختلاف جہت کی صورت میں اس سے ترجیح نہیں ہوگی بلکہ میت سے تعلق میں مساوات کااعتبار کیاجائے گا اس کابیان یہ ہے کہ مثلًا کوئی |
[1] الفتاوی الخیریۃ کتاب الفرائض دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۴۲
[2] مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث ذوی الارحام دارالمعرفۃ بیروت ۳۰/ ۷
[3] مبسوط الامام السرخسی کتاب الفرائض باب میراث ذوی الارحام دارالمعرفۃ بیروت ۳۰/ ۵
[4] الشریفیۃ شرح السراجیۃ باب ذوی الارحام فصل فی الصنف الاول مطبع علیمی لاہور ص۱۰۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع