30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رابعًا: مختصر امام اجل قدوری میں صاف فرمایا ذوی الارحام کے اقسام بیان کرکے حکم عام ارشاد فرماتے ہیں:
|
واذا استوی وارثان فی درجۃ واحدۃ فاولٰھم من ادلٰی بوارث واقربھم اولٰی من ابعدھم[1]۔ |
جب دو وارث ایك درجے میں برابرہوں تو وارث کے ذریعے میت کی طرف منسوب ہونے والا اولٰی ہوگا اورذوی الارحام میں سے اقرب کوابعد پرترجیح ہوگی۔(ت) |
خامسًا: اسی طرح متن تنویرمیں تمام اصناف ذکرکرکے فرمایا:
|
واذا استووافی درجۃ قدم ولد الوارث واذا اختلفت الاصول اعتبر محمد من الاصول وقسم علیھم اثلاثا[2] الخ۔(ملتقطًا) |
جب درجہ میں برابرہوں تووارث کی اولاد کو مقدم کیاجائے گا،اورجب اصول مختلف ہوں توامام محمدعلیہ الرحمہ اصول کا اعتبارکرتے ہوئے مال کے تین حصے بناکر ان پرتقسیم کرتے ہیں الخ(ملتقطًا)۔(ت) |
اس نے بھی صاف کردیاکہ بعداستواء درجہ تقدم ولدوارث کاحکم عام ہے اس کے بعد مسئلہ اختلاف جہت نہ لائے جس سے اشتباہ ہوبلکہ مسئلہ اختلاف اصول ذکورۃ وانوثۃ میں یہی نکتہ ہے کہ ان تینوں متون اعنی قدوری وکنزوتنویرنے یہاں قوت قرابت کی ترجیح ذکرنہ فرمائی کہ منظورافادہ قواعد عامہ ہے اور وہ عام نہ تھی بلکہ اتحاد(حیز)سے خاص ھکذا ینبغی ان یفھم کلام الکرام(بزرگوں کے کلام کویوں ہی سمجھناچاہئے۔ت)
اوریہیں سے ظاہرہواکہ واذا استووافی درجۃ(جب درجہ میں برابرہوں۔ت)کے بعد درمختارکا"واتحدت الجھۃ"[3] (اور جہت متحد ہو۔ت)کی طرف خود ان کامیل برخلاف متن ہے۔
سادسًا: ہدایہ،وقایہ،نقایہ،اصلاح،غرر ان متون میں مسئلہ کاذکرنہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع