30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بکون الاصل وارثا ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث ثم یعتبر فی کل فریق الترجیح بقوۃ القرابۃ ثم بکون الاصل وارثا۔ |
وہ قرب درجہ پھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں۔پھرباپ کے تعلق والے فریق کودوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کوایك تہائی دیاجائے گا۔پھرہرفریق میں قوت قرابت پھراصل کے وارث ہونے سے ترجیح ہوگی۔ (ت) |
اوربموجب مذاق شامی قاعدہ یہ ہے:
|
یرجحون بقرب الدرجۃ ثم بقوۃ القرابۃ ثم بکون الاصل وارثا اتحدت الجھۃ اواختلفت ثم یعطی لفریق الاب الثلثان ولفریق الام الثلث۔ |
وہ قرب درجہ،پھرقوت قرابت،پھراصل کے وارث ہونے کی وجہ سے ترجیح پاتے ہیں چاہے جہت متحد ہویامختلف،پھرباپ کے تعلق والے فریق کو دوتہائی اورماں کے تعلق والے فریق کو ایك تہائی دیاجائے گا(ت) |
پس ان میں سے کس قاعدہ کومعمول بہ کیاجائے؟ بیّنواتوجروا۔
بخدمت حضرت مولانا صاحب علامۃ الدہرمولوی احمد رضاخاں سلمہ الرحمن،السلام علیکم ورحمۃ اﷲ۔
چونکہ یہ خاکسار اس وقت ایك ایسے رسالہ علم میراث کی تصنیف میں لگاہواہے جونہایت سہل،مختصراورمنضبط قواعد پرمشتمل ہو،تقلید قواعد قدیمہ کی بالکل ترك کرکے جدیدقواعد ایسے ایجاد ہوچکے ہیں جوایك ہی عمل کے ذریعے سے مناسخہ تك مسئلہ جاتا ہے کہ دوسرے عمل رد،عول تصحیح وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔علٰی ہذالقیاس ذوی الارحام اوراس کے مناسخہ کی تسہیل بھی پرلے درجہ تك کی گئی ہے،امیدکہ بعد تکمیل وہی رسالہ بنابرتقریظ حضور کی خدمت میں بھی ارسال کیاجائے گا،چونکہ اولاد صنف رابع کے قاعدہ تحریمی میں سخت اختلاف ہے لہٰذا حل ہونا اس مشکل کابغیرامداد آں حل المشکلات صاحب کمال کے سخت مشکل ہے اورکوئی دوسرااہل فن باکمال میری رائے میں موجودنہیں کہ حل کرسکے،پس بہرحال دوسرے شغل کوبالفعل بندفرماکر مکمل قاعدہ مفتٰی بہ بمع نقل عبارات فقہیہ لکھ کرارسال فرمائیں تاکہ بعینہٖ آپ کے فتوٰی کودرج رسالہ کیاجائے میرے پاس کوئی اورکتاب بجزشامی ودُر و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع