30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بقولہ بقی مااذا اختلفت الجھۃ فھل یرجح بقوۃ القرابۃ ام لا،اما علی روایۃ انہ لاترجیح لولد العصبۃ علی ولد ذی الرحم فقد صرحوا بانہ لا ترجیح ایضًا بقوۃ القرابۃ فلایرجح ولدالعمۃ لا بوین علی ولد الخال اوالخالۃ لاب،قالوا وانما یعتبر ذٰلك فی کل فریق بخصوصہ فالمدلولون بقرابۃ الاب یعتبرفیما بینھم قوۃ القرابۃ ثم ولد العصبۃ ای فیقدم ولدالعمۃ لابوین علی ولد العمۃ اوالعم لاب،و کذا المدلولون بقرابۃ الام فیعتبر فیھم قوۃ القرابۃ ولاتتصور عصوبۃ فی قرابۃ الام فولد الخالۃ لابوین مقدم علی ولد الخال لاب،واما علی روایۃ ترجیح ولد العصبۃ عنداختلاف الجھۃ فلم ارمن ذکرانہ یرجح بقوۃ القرابۃ،بل ظاھر اطلاق ھذہ الروایۃ ترجیح بنت العم لاب علی ابن الخال لابوین وان کان ابن الخال اقوی منھا،ومقتضی ما مرعن السید من التعلیل بان |
اپنے اس قول کے ساتھ،باقی رہی اختلاف جہۃ کی صورت کہ کیا اس میں قرابت کی قوت سے ترجیح ہوگی یانہیں۔اس روایت کی بنیاد پرکہ عصبہ کی اولاد کو ذی رحم کی اولادپرکوئی ترجیح نہیں مشائخ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قوت قرابت کے ساتھ بھی ترجیح نہیں ہوگی۔چنانچہ حقیقی پھوپھی کی اولاد کو علاتی ماموں یاعلاتی خالہ کی اولاد پرترجیح نہ ہوگی۔ مشائخ نے کہاکہ قوت قرابت کااعتبار ہرفریق میں علیحدہ ہوگا۔ لہٰذا جورشتہ دار باپ کی قرابت سے میت کی طرف منسوب ہیں ان کے درمیان قوت قرابت پھرعصبہ کی اولاد ہونا معتبرہوگا یعنی سگی پھوپھی کی اولاد علاتی پھوپھی یاعلاتی چچاکی اولاد پرمقدم ہوگی۔یونہی ماں کی قرابت سے میت کی طرف منسوب ہونے والوں کے درمیان قرابت کی قوت معتبرہوگی مگران میں عصبہ ہونا متصورنہیں ہے۔چنانچہ حقیقی خالہ کی اولاد علاتی ماموں کی اولادپرمقدم ہوگی۔لیکن اس روایت کی بنیادپرکہ جہت مختلف ہونے کے باوجود عصبہ کی اولاد کوترجیح ہوگی میں نے کسی شخص کونہیں دیکھا جس نے قوت قرابت کے ساتھ ترجیح کا ذکرکیاہو بلکہ اس روایت کے اطلاق کاظاہر تو یہ ہے کہ حقیقی ماموں کے بیٹے پرعلاتی چچا کی بیٹی کوترجیح حاصل ہوگی حالانکہ ماموں کابیٹا چچا کی بیٹی سے اقوٰی ہے۔اور سید کے حوالے سے جودلیل پہلے گزری کہ کسی شخص کو اس معنی کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع