30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اگرزوجہ ودختر کوزیورکامالك نہ کردیاتھانہ وہاں کے عرف ورواج سے مالك کردینا مفہوم ہوتاہوتواس زیورکامالك خود زید ہے عورت کاماں باپ کو اس کے رکھ لینے کاکوئی حق نہیں اوراگرمالك کردیاتھا جب بھی لڑکی کازیوروہ نہیں رکھ سکتے کہ نابالغہ لڑکی کا ولی اس کاباپ ہے نہ کہ نانانانی۔رہا عورت کازیور اس کے تیرہ حصوں میں سے چارحصے اس کے ماں باپ کے اورتین حصے شوہر اورچھ حصے لڑکی کے،عورت کے والدین اپنے چار حصے لے سکتے ہیں،باقی نوحصے لینے اوررکھنے کامستحق اس کاشوہرہے۔یوں ہی مہر کے تیرہ حصوں میں سے تین حصے بحق شوہر ساقط ہوگئے اورچھ حصے کہ حق دختر ہیں نانا نانی ان کامطالبہ نہیں کرسکتے اپنے چار حصے مانگ سکتے ہیں،اگرعورت کا معاف کرنا کہ مرض الموت میں تھا منظورنہ رکھیں اوراگربعد مرگ زن اس معافی کو منظورکرچکے ہوں تو ان کامہرمیں کوئی حق نہ رہا لڑکی نوبرس کی عمرہونے تك نانی کے پاس رہے گی پھرباپ لے لے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۴: ازجہجہ شریف ریاست بہاولپور مرسلہ جناب احمد بخش صاحب چشتی سجادہ نشین ۱۳ذی القعدہ ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ موجب روایت متون سراجی وہدایہ وکنزوملتقی الابحرعنداختلاف الجہۃ ترجیح بقوۃ القرابۃ وبکون الاصل وارثا معتبر نہیں یعنی بنت العم وابن الخال میں سے کسی کوترجیح نہیں بلکہ بنت العم کو دوحصہ ابن الخال کوایك حصہ دیاجائے گا اوراسی روایت کو صاحب فتاوٰی حامدیہ نے مفتی بہ قراردیاہے بقولہ المعتبر مافی المتون لانھا موضوعۃ لنقل المذھب[1] (اپنے اس قول کے ساتھ کہ معتبروہی ہے جوکچھ متون میں ہے کیونکہ وہ نقل مذہب کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ت)اور صاحب فتاوٰی خیریہ نے روایت شمس الائمہ سرخسی کوبہت نقول کے ساتھ مؤید کرکے مفتی بہ قراردیا یعنی عنداختلاف الجہۃ ولد عصبہ کو ترجیح ہے،علامہ شامی نے بھی اسی روایت کی بڑی تائید کرتے ہوئے اپنی کتاب تنقیح حامدیہ میں مفتی بہ قراردیا مگر عنداختلاف الجہۃ ترجیح بقوۃ القرابۃ(اختلاف جہت کے وقت قوت قرابت کے ساتھ ترجیح۔ت)میں اضطراب کرکے امربمراجعۃ کتب کیاہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع