30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
جبکہ نہ ان لڑکیوں نے اپناحصہ مانگا نہ لڑکوں نے دیا اوربطور خود اس میں تجارت کرتے رہے تو وہ چاروں لڑکیاں اصل متروکہ میں اپناحصہ طلب کرسکتی ہیں تجارت سے جونفع ہوا وہ لڑکیاں اس کی مالك نہیں،ہاں ان کے حصہ پرجونفع ہوا لڑکوں کے لئے ملك خبیث ہے لڑکوں کوجائزنہیں کہ اسے اپنے تصرف میں لائیں،ان پرواجب ہے کہ یاتووہ نفع فقراء مسلمین پرتصدق کریں یاچاروں لڑکیوں کو دے دیں اوریہی بوجوہ افضل واولٰی ہے اوران لڑکیوں کے لئے حلال طیب ہے کہ انہیں کی ملك کانفع ہے جبکہ لڑکوں پرشرعًا حرام ہے کہ ان لڑکیوں کے حصہ کانفع اپنے صرف میں لائیں تولڑکیوں ہی کوکیوں نہ دیں کہ ان کی دلجوئی ہو صلہ رحم ہو صاحب حق کی ملك کانفع اسی کوپہنچے،واﷲ تعالٰی اعلم
اوراس میں برابرہے وہ نفع کہ انہیں مال متروکہ کی تجارت پرملا اور وہ جس میں احد ومحمود مضارب ہے کہ ان چارلڑکیوں نے نہ حصہ طلب کیا نہ ان کومضارب کیا،بطورخود مضارب بن جانا مہمل محض ہے اوراگرماں نے مضارب کیاتوان چارلڑکیوں کے حصوں پر اسے بھی کوئی اختیارنہ تھا بہرحال ان کاحصہ ان کے ہاتھ میں بطور غصب رہا اور اس پرنفع جس طرح بھی حاصل ہوا خبیث ہوا اور اس کاوہی حکم ہے جوگزرا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳: ازبمبئی محلہ کماٹی پورہ دوسری گلی مسئولہ محمدعثمان صاحب سنی حنفی قادری ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدایك نادارشخص ہے جس کی اہلیہ اور ایك دختر تین سال کی ہے قرض لے کراپنی زوجہ ودختر کوزیوربنادیااوراب بھی مقروض ہے اس کی خوشدامن بغیراجازت زیداپنی لڑکی اورنواسی کواپنے مکان پرلے گئی اور آنے نہ دیا اس درمیان میں زوجہ زید بیمارہوگئی اورحالت بیماری میں اپنے شوہر کودوآدمیوں کے روبروبلواکرمہرمعاف کردیا۔ زیدنے قرض لے کر تجہیزوتکفین کردی اب خسرزید زیوراورنواسی کودینے سے انکارکرتاہے کہ تمہارا اب کوئی حق نہیں اورنہ تمہاری ہمشیرہ کو لڑکی کے پرورش کرنے کاکوئی حق ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں زیور اورنواسی کونہ دینا کیاحکم شرع رکھتاہے؟ بیّنوابیانا شافیا توجروااجرا وافیا(تسلی بخش طورپربیان کروپھرپورااجرپاؤگے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع