30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ترکہ متوفی کس طرح تقسیم کیاجائے گا؟ بیّنوابالکتاب توجروا یوم الحساب(کتاب سے بیان کرو حساب کے روز اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض متوفی کاترکہ نصف نصف دونوں بہنوں کوپہنچے گا اوربیٹی کو کچھ نہ ملے گا۔ عالمگیریہ میں ہے:
|
احکامھم احکام المرتدین کذا فی الفتاوی الظھیریۃ[1]۔ |
رافضیوں کے احکام مرتدوں کے احکام جیسے ہیں۔فتاوٰی ظہیریہ میں یوں ہی ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
المرتدین لایرث من مسلم ولامن مرتد مثلہ کذا فی المحیط[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مرتد نہ تومسلمانوں کاوارث بنتاہے اور نہ ہی اپنے جیسے مرتد کا۔ایساہی محیط میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۰۲: ازشہر بہارچوك بازارپٹنہ دکان پارچہ حاجی ناصرعلی محمدابراہیم ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ
زیدنے انتقال کیا،تین لڑکے چھ لڑکیاں چھوڑیں جن میں چار لڑکیاں شادی شدہ تھیں اور دونابالغہ اورایك لڑکا نابالغ،اوراحد و محمود دولڑکے بالغ،یہ پانچوں اوران کی والدہ ایك ساتھ رہے،اور کل متروکہ انہیں کے قبضہ میں رہا۔وہ چار لڑکیاں شادی شدہ تھیں،وقت انتقال زیدحق پدرکی طالب نہ ہوئیں،متروکہ پدری سے احدومحمود نے تجارتیں کیں کچھ ایسے ہی اورکچھ میں مضارب بن کر جس سے عظیم کاروبار ہوگیا وہ چاروں دختر اب پدری حق چاہتی ہیں اورکہتی ہیں کہ جوکچھ تجارتوں میں زیادتی ہوئی ہے وہ بھی ہمارے ہی باپ کامال ہے اس میں بھی ہماراحق ہوناچاہئے،اس صورت میں کیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)اوراگرنفع میں بھی ان کوحصہ دیاجائے توکیا اس نفع سے بھی حصہ ملے گا جس میں احدومحمود مضارب ہوئے تھے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع