30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورزید وبکر برادران اخیافی اوربرادرعلاتی ولیدجوکہ رافضی المذہب ہے۔توایسی صورت میں تقسیم ترکہ کن کن ورثہ پرہوگا؟ دیگریہ کہ متوفی نے جوجائداد چھوڑی ہے وہ متوفی کی خاص قوت بازو سے حاصل کی ہوئی ہے کسی مورث قدیم کاکچھ ترکہ اس میں شامل نہیں ہے اور بیوہ لاولد متوفی کی کسی وارثان استحقاق شدہ کو کچھ حصہ نہیں دیتی ہے بلکہ آمادہ جنگ وجدال ہے تو اس صورت میں نزدیك شرع شریف کے عنداﷲ گنہ گارہوگی یانہیں؟ فقط۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
بیوہ کامہرواجب الادا اگرقدر متروکہ سے زائد یابرابرہے اور وہ اس دعوٰی سے کسی وارث کوکچھ دینا نہیں چاہتی توگنہ گار نہیں، وارث اگرمہر میں جائداد دینانہ چاہیں مہراداکریں اس کے بعد جائداد میں حصہ لیں،اوراگرمہر نہیں یا قدرمتروکہ سے کم ہے تو بیوہ کاکل جائداد پرقبضہ کرنا اوروارثوں کونہ دیناظلم ہے اوروہ گنہ گار۔خالد کاترکہ حسب شرائط فرائض بعد ادائے مہرودیگردیون و انفاذ وصایا وانحصار ورثہ فی المذکورین آٹھ سہم ہوکردوسہم زوجہ اورتین تین سہم دونوں اخیافی بھائیوں کو ملیں گے اورولید برادرعلاتی کوبوجہ اختلاف دین کچھ نہ ملے۔فتاوٰی عالمگیریہ میں فتاوٰی ظہیریہ سے دربارہ روافض ہے:
|
احکامھم احکام المرتدین[1]۔ |
رافضیوں کے احکام مرتدوں کے احکام کی طرح ہیں۔(ت) |
اوراسی میں ہے:
|
واختلاف الدین یمنع الارث[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
دین کامختلف ہونا میراث سے مانع ہے(ت)واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۲۰۱: ازسنبھل ضلع مرادآباد محلہ کوٹ غربی متولیان مسئولہ سیدمحمدعلی صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ایك شخص سنی المذہب کاانتقال ہوا اور اس نے اپنی دوبہنیں سنی المذہب اورایك بیٹی شیعی المذہب چھوڑیں،شرعًا اس صورت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع