30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس نکاح سے اپنی نارضامندی ظاہرکرتی ہے اور فسخ کراناچاہتی ہے کیاحکم ہے ؟
الجواب:
اگریہ بیان صحیح ہے توعرفان خاں نے جس وقت نکاح کی اطلاع پانے پراس نکاح کے ماننے سے انکارکیااسی وقت وہ نکاح رَد ہوگیا اور مظہری کوبکرسے کچھ علاقہ نہ رہا فسخ کی کیاحاجت کہ وہ سرے سے نہ رہا مظہری کواختیارہے جس مناسب جگہ چاہے نکاح کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۹: ازمدرسہ عین العلوم پوسٹ برتلہ ۲۴ پرگنہ مرسلہ محمدسراج الدین صاحب ۱۲/رمضان ۱۳۳۸ھ
زید نے انتقال کیا اورزوجہ واب وام وایك اخت عینی وارث چھوڑے ہرایك کاحصہ کیاہوگا اگر اس صورت میں ام کوثلث مابقی ملے توسراجی کی عبارت ذیل کاکیامطلب ہوگا:
|
وثلث مابقی بعد فرض احد الزوجین وذٰلك فی مسألتین زوج وابوین اوزوجۃ وابوین[1]۔بیّنوا توجروا۔ |
ماں کو زوج یازوجہ کاحصہ نکالنے کے بعد باقی کا تہائی ملے گا اور وہ دومسئلوں میں ہوتاہے:(۱)میت نے خاوند اوروالدین چھوڑے ہوں۔(۲)میت نے بیوی اوروالدین چھوڑے ہوں۔بیان کیجئے اجرپاؤگے۔(ت) |
الجواب:
ہاں اس صورت میں ام کو ثلث باقی ملے گا اوریہ عبارت سراجیہ کے مخالف نہیں،وہی صورت زوجہ وابوین کی ہے کہ اخت عینیہ کاوجودوعدم یکساں ہے کہ خود محجوب بالاب ہے اورام کو حاجبہ عن الثلث نہیں،ہاں دو عینیہ ہوتیں توام کو سدس ملتا زوجہ کو ربع باقی اب کو عصوبۃً۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰:لکھنؤ محلہ رکاب گنج گڈھیا متصل احاطہ کمال خاں ۲ مکان مرسلہ مہدی حسن خاں صاحب مورخہ ۱۹جمادی الاولٰی ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں حضرات علمائے اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ ہندہ کے شوہر اول سے دوپسرزید وبکر اورہندہ کے شوہرثانی سے ایك پسر خالد ہے،اورہندہ کے شوہرثانی کی زوجہ اولٰی سے ایك پسرولید ہے۔خالد فوت ہوا اس نے ورثہ ذیل چھوڑے ایك بیوہ لاولد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع