30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوّل: زید کی متروکہ جائداد زید کی لڑکی وبیوی پرتقسیم ہونے کی کیاصورت ہے؟
دوم: زیدکے متروکہ میں عمروکا اورزید کے علاتی بھائی خالد کاکوئی حق ہے یانہیں؟ ہے توکتنا؟
سوم: ایسی حالت میں جبکہ عمرو کی ولایت سے جائداد کے تلف ہوجانے کااحتمال ہے تو نابالغہ کی ماں ولیہ نابالغہ ہوسکتی ہے یا نہیں؟
الجواب:
بعدادائے مہرودیگردیون حسب شرائط فرائض متروکہ زیدکے آٹھ حصوں سے ایك حصہ اس کی زوجہ اورچارسہم دختر اورتین سہم عمرو کوملیں گے فرضًا وعصوبۃً(بطور فرض اور بطورعصبہ)اورعلاتی بھائی کاکوئی حق نہیں شریعت مطہرہ نے پدرووصی پدرکے بعد نابالغ کے مال کا ولی اس کے دادا کوبنایاہے ماں کسی طرح ولی مال نہیں،نہ کہ داداپر اس کوترجیح ہو۔درمختارمیں ہے:
|
ولیہ فی المال ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ[1] الخ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
نابالغ کاولی اس کے مال میں اس کاباپ پھر باپ کاوصی پھر اس کادادا پھردادا کاوصی ہوتاہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۹۷: مرسلہ حافظ جان محمدصاحب ساکن گندہ نالہ شہربریلی
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے انتقال کیااورایك مکان واسطے ادائیگی مہراپنی بیوی کے چھوڑا ایك لڑکا پانچ لڑکیاں اولاد چھوڑی ایك لڑکی کی شادی والد نے خود کردی ۴لڑکیاں رہیں ان لڑکیوں کی والدہ نے اپنے لڑکے سے کہاکہ تم اپنی کمائی سے ان کے عقدنکاح کاانتظام کردو اس مکان کاتم کومالك کیا چنانچہ لڑکے نے حسب فرمان اپنی والدہ کے چاروں کا عقد نکاح کردیا بعد کووالدہ نے انتقال کیا اس کے بعد دولڑکیاں انتقال کرگئیں بعد اس کے اس لڑکے نے بھی انتقال کیا اس نے تین ہمشیرہ اوراپنی بیوی اوردولڑکے اورچارلڑکیاں چھوڑیں بعد کوایك ہمشیرہ اورانتقال کرگئی لیکن ان سب کی اولاد موجودہیں کچھ ان میں سے ایسے ہیں کہ اپنا حصہ طلب کرتے ہیں اورایك وہ ہمشیرہ جس کی شادی خود والد نے کی،زندگی میں نہ کسی نے مکان پر قبضہ کیانہ طلب کیا اوراس لڑکی کے ذمہ قرضہ دیناہے جتنے کامکان کاحصہ ہے اتنا قرضہ بھی ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع