30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے اس کے ترکہ کو بقوانین شرع تقسیم پرصاف انکارکیا،نمبر۳ کی طرف سے اس پرڈیڑھ سال تك اعتراض اورانکارہوتا رہا بالآخرانہوں نے جوثالث کیا اس نے بھی فیصلہ بحق ہرسہ بالابخلاف شریعت کردیا۔اس فیصلہ میں نمبر۳ کابہت ساحق زائل کرلیا گیا زبیدہ بھی خلاف شرع حصہ پاچکی ہے مگرہندہ جوبعد متوفی فوت ہوگئی،اب فریق نمبر۳ اپنے قلیل حصہ سے بھی جو اس کو وراثۃً ملاہے اپنی ہمشیرہ مرحومہ کے شرعی حصہ سے سبکدوش ہوناچاہتاہے مرحومہ کی سسرال اوربالخصوص خاوند فاسق فاجر عقائد میں صلح کل جس کاپسر الولد سرٌّ لابیہ(بیٹا اپنے باپ کابھیدہوتاہے)ہے پس فریق نمبر۳ حیرت میں ہے کہ مرحومہ کاورثہ کس کو اداکیاجائے اس کاارادہ ہے کہ یہ حصہ بنام بزم حنفیہ کردیاجائے اوروہ بتدریج اشاعت مذہب حنفیہ وحمایت کلام مجید صرف کرے،اب استفسار ہے کہ کیا اس صورت میں جب کہ لڑکا بھی فاسق فاجرکے قبضہ میں ہے اگریہ روپیہ اس کودے دیاجائے تو فسق وفجوراوربدمذہبی میں صرف ہوگاتو کیا اس ترکہ کو(جویك صدروپے کے اندراندرہوگا)بزم حنفیہ حمایت کلام مجید اور اشاعت مذہب اہلسنت میں صرف کرسکتی ہے یانہیں؟
الجواب:
سوال زائدباتوں سے بہت مفصّل اورضروری باتوں سے نہایت مجمل ہے کیسی تقسیم خلاف شرع ہوئی اگراس شیطانی مسئلہ پرعمل ہوا جوآج کل شیاطین الانس میں ہے کہ بنات کوترکہ نہیں دیتے توزبیدہ کوکیسے ملااورپسرسوم کاحق کیسے زائل ہوا اوراگریہ ہے کہ تینوں بیٹوں اورایك بیٹی نے باہم لے لیا اور ایك دختر کوکچھ نہ دیا اورپسرسوم کو اس کے حصہ سے بہت کم دیا اس صورت میں اس دختر کے حصہ کا اس پسرپر کیابارہے؟ اس نے اس کا کیادبایاہے جس سے سبکدوشی چاہتاہے؟ ترکہ کیاچیزہے اورتقسیم کس طرح؟ صاف تحریر فرمائیں کہ جواب دیاجائے،واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۹۴ تا ۱۹۶: ازکانپور نئی سڑك دکان حاجی رحیم بخش وحاجی فہم بخش مرسلہ کاظم حسین صاحب ۲۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زیدفوت ہوگیا اور اپنی بیوی اورایك نابالغہ لڑکی چھوڑی، عمروجوزیدکاباپ ہے اس وجہ سے کہ اس نے ایك غیرکفو کی عورت سے بعد وفات والدہ زیدنکاح کرلیاتھا ہمیشہ زیدسے علیحدہ رہا۔اب بعد وفات زید زید کی جائداد پرناجائزصورت سے قابض ہوگیاہے اوراتلاف جائداد کی نیت سے لڑکی نابالغہ کاولی بننا چاہتا ہے۔اس صورت میں کیاحکم ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع