30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عمرو زیدکی موت کاملتجی ہے اورزیدنے ان حرکات ناشائستہ سے تخمینًا عرصہ سات برس تك صبرکیامگر جب طاقت بشری تحمل کی نہ رہی تومجبورًا زیدکو عمروکاعاق کرناپڑا،کیایہ عمرو عاق کرنے کے لائق ہے یانہیں؟ اورعاق ہونے کے بعد وراث ہوسکتاہے یا نہیں؟
الجواب:
صورت مذکورہ میں عمرو ضرورعاق وفاسق ومستحق عذاب النارہے مگرعقوق بمعنی ارث نہیں۔
|
ان اﷲ اعطی کل ذی حق حقہ[1]۔ |
بیشك اﷲ تعالٰی نے ہرحقدارکواس کاحق عطافرمادیاہے۔ (ت) |
نہ عاق کردینا شرع میں کوئی اصل رکھتاہے نہ اس سے میراث ساقط ہو،ہاں اگرزیدچاہے تواپنی جائداد وقف اہلی کردے اوراس میں عمرو کے لئے شرط لگادے کہ اگروہ اپنے حال کی اصلاح کرے اوران ان باتوں کاپابند ہوتو اس قدرپائے ورنہ نہ پائے،یوں مقصود زیدحاصل ہوسکتاہے،اوراگر امیداصلاح نہ ہو اوربالکل محروم کردے جب بھی حرج نہیں کہ فاسق کومیراث سے محروم کردینے کی اجازت ہے یہ تو وقف ہے۔فتاوٰی خلاصہ و لسان الحکام وفتاوٰی ہندیہ میں ہے:
|
لوکان ولدہ فاسقا واراد ان یصرف مالہ الٰی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھٰذا خیر من ترکہ[2]۔ و اﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگر اس کی اولاد فاسق ہواور وہ چاہے کہ اپنا مال نیکی کے کاموں میں خرچ کردے اورفاسق اولاد کو اس سے محروم کردے تویہ اس کے لئے بہترہے بنسبت اس کے کہ وہ فاسق اولاد کے لئے مال چھوڑجائے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۸۷: ازشہرسیالکوٹ بازار پینج پورہ زیرقلعہ مرسلہ امام الدین صاحب ۵شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید تین لڑکے چھوڑ کرمرگیا دو۲ بڑے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع