30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اجمعنا ان فرض الجدۃ السدس فان نصفناہ ھٰھنا ولاحق للابویۃ یرجع النصف لامحالۃ الی الاب فیشارك الجدۃ فی فرضہا ولانظیرلہ فی الشرع فتبین ان الاول ھو المرجح وکانھا لھذا قدمہ فی الاختیار۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہمارا اس پراجماع ہے کہ جدہ کامقررہ حصہ فقط چھٹاہے۔ اگر یہاں ہم اس کونصف کردیں(یعنی بارہواں بنادیں) حالانکہ دادی کایہاں کوئی حق نہیں تویقینا چھٹے کانصف(بارہواں حصہ)باپ کی طرف لوٹے گا تو اس طرح وہ جدہ کے مقررہ حصے میں شریك ہوجائے گا اورشریعت میں اس کی کوئی نظیرنہیں ملتی تو واضح ہوگیا کہ پہلے قول کوہی ترجیح دی جائے گی گویا اسی وجہ سے اختیارمیں اس کومقدم کیاہے۔اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۸۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مفصلہ ذیل میں:

اورچراغ علی مرحوم کے محمدمسح اپنے خلیرے بھائی اورمسماۃ فاطمہ زہرا اپنی خلیری بہن بھی ہیں،اب چراغ علی مرحوم کامتروکہ کس کوملے گا عبدالعلیم عرف شہرو کوملے گایاخلیرے بھائی وبہن کوملے گا؟بیّنواتوجروا۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض چراغ علی کاکل ترکہ تین حصہ ہوکردوحصے اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع