30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لان فرضھا اذ ذاك نصف السدس بل لیس فرضھا الا السدس وکانت کل منھما تدعیہ لنفسھا کملا فجعلناہ بینھما نصفین علی سبیل المنازعۃ لعدم المرجح کما اذا اقام کل من الخارجین علی ان الارض لہ فانھا تنصف بینھما کذٰلك ھٰھنا فاذا سقطت مزاحمۃ الابویۃ لحجب الاب ایاھا بقیت دعوی الامیۃ بلامعارض فکان لھا السدس کملا کما اذاکان لدار شفیعان متساویان وادعی کل منھما جمیع الدار المشفوعۃ ثم عرض لاحدھما مایسقط حقہ کانت الدار کلھا للثانی لزوال المزاحمۃ۔وامّا ثانیا فلان اﷲ سبحانہ و تعالٰی قد اعطی کل ذی حق حقہ [1]فلایجوز ان ینقل من فرض احد شیئ الٰی غیرہ وقد |
نصف نہیں کیاجائے گا،اس لئے کہ اس صورت میں جدّہ کا مقررہ حصہ چھٹے کانصف(بارہواں حصہ)ہوجائے گا حالانکہ ایسانہیں بلکہ اس کامقررہ حصہ فقط چھٹاہے تو ان دونوں(دادی اورنانی)میں سے ہرایك اپنے لئے پورے چھٹے حصے کادعوٰی کرے گی۔چنانچہ ہم نے منازعت کے باعث اورمرجح نہ ہونے کی وجہ سے اس چھٹے حصے کو ان دونوں کے درمیان نصف نصف کردیا۔جیساکہ بائع اورمشتری کے علاوہ دواجنبی مردوں میں سے ہرایك نے اس بات پرگواہ قائم کردئیے کہ فروخت شدہ زمین اس کی ہے تو وہ زمین دونوں کے درمیان نصف نصف کردی جائے گی۔ایساہی یہاں بھی ہوگا۔جب دادی کی مزاحمت اس وجہ سے ختم ہوگئی کہ باپ نے اس کو محروم کردیاہے تونانی کادعوٰی بلامنازعت رہا لہٰذا اس کومکمل چھٹاحصہ دیاجائے گا۔جیسے کسی گھرکے دومساوی شفیع ہوں اورہرایك شفعہ والے پورے گھرکادعوٰی کرے پھران میں سے ایك کو ایساعارضہ لاحق ہو جس کی وجہ سے اس کاحق ساقط ہوجائے تومزاحمت کے ختم ہوجانے کی وجہ سے پورا گھر دوسرے کوملے گا۔وجہ دوم کیونکہ اﷲ تعالٰی نے ہرحقدار کو اس کاحق عطافرمادیاہے لہٰذا یہ جائزنہ ہوگا کہ کسی کے مقررہ حصے سے کوئی شے دوسرے کی طرف منتقل ہوجائے۔ بیشك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع