30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حیات طفل مرحوم میں زیدنے بواسطہ کچہری وہ مہرادا کردیا بعدہ زیدکاانتقال ہوگیا اب زوجہ اپنے حق ربع کی مدعیہ ہے مقدمہ کچہری میں زیربحث ہے کوئی تحریری تقریری ثبوت طلاق نہیں ہے نہ قبل ازادائے مہرنہ مابعدآں،پس حکم شرع شریف سے مطلع فرمائیں۔
الجواب:
ہرمعجل کااداکرنا پیش رخصت ضرورہوتاہے اوراگرعورت قبل رخصت نہ مانگے توجب طلب کرے اس کااداکرنا کسی طرح طلاق دینے کی دلیل کیاشبہہ بھی نہیں ہوسکتا اوربے ثبوت شرعی طلاق ہرگزنہیں مانی جاسکتی عورت ضرور مستحق میراث ہے۔
|
قال اﷲ تعالٰی" وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّکُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ "[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اورتمہارے ترکہ میں عورتوں کاچوتھائی ہے اگرتمہاری اولادنہ ہو،پھراگرتمہاری اولاد ہوتو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے جووصیت تم کرجاؤ اورقرض نکال کر۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۸۰: ازلکھنؤ بلوچ دروازہ مسجد متصل اکھاڑہ مرسلہ مولوی محمدعثمان طالب علم ۵رجب المرجب ۱۳۳۶ھ
بعد تحیّۃ سلام گزارش ہے کہ یہاں علماء مسائل ذوالارحام میں مختلف ہیں بعض امام ابویوسف کے قول کے موافق جواب دیتے ہیں بعض امام محمد کے قول کے موافق جناب کی رائے میں کس قول کے موافق عمل درآمد ہونا چاہئے اور جناب کا معمول کیا ہے
الجواب :
اصل فتوی قول امام محمد علیہ الرحمۃ پر ہے فقیر کا اسی پر عمل ہے مگر اس کے استخراج میں قدرے دشواری ہوتی ہے لہٰذا بعض مشائخ نے بغرض آسانی قول امام ثانی علیہ الرحمہ پرفتوٰی دیا۔وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱: ۱۴/شعبان ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کاانتقال ہوا اس نے ایك دادی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع