30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس صورت میں اگریہ چاہیں کہ ورثہ زوجہ اولٰی پربھی ساتھ ہی تقسیم ہوجائے توکل متروکہ زیدتین ہزاراکتیس۳۰۳۱ سہم کرکے زوجہ اولٰی کے ہربھائی کو پانچ سوسہم بہن کو دوسوپچاس۲۵۰،زوجہ ثانیہ کو بارہ سواکیاسی۱۲۸۱ دیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۷۴: ازاحمدآباد محلہ مرزاپور مرسلہ شاہ محمد مورخہ ۱۶/ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
جناب مخدومنا ومولانا مولوی احمدرضاخاں صاحب،السلام علیکم! واضح رائے عالی ہوکہ شہراحمدآبادمیں جماعت گاؤقصابوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکی اوربہن کوورثہ مال متروکہ میت سے کبھی کچھ نہیں دیاکرتے اور ان کامقولہ یہ ہے کہ لڑکی اوربہن کاورثہ میت کے مال میں سے کسی چیزمیں نہیں پہنچتا۔لہٰذا آپ پرفرض ہے کہ فتوٰی لکھ کرروانہ کریں تاکہ وارث اس شخص کی اپناپورا حق عدالت سے لڑکروصول کریں لہٰذا ٹکٹ(۳/)کی اس رجسٹری لفافہ میں ملفوف ہیں،مولانا صاحب تخمینًا پندرہ۱۵ سال کا عرصہ ہواکہ ایك رجسٹری سوال سود کے بارہ میں حضورکے یہاں روانہ کیاتھا مگربالکل جواب سے آپ نے مجھے محروم رکھاتھا شاید کہ آپ سے وہ استفتاء گم ہوگیاہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفقہائے متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص گزرگیا اس نے ایك لڑکی اوردوبہنیں حقیقی اورچاربھتیجے اورایك زوجہ چھوڑے۔اب ان میں کون کون سے وارث کوحق پہنچتاہے اورکون سے وارث محروم رہتے ہیں بیّنواحکم الکتاب توجروا بیوم الحساب(کتاب کاحکم بیان کرو قیامت کے دن اجرپاؤگے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض ترکہ اس شخص کاسولہ سہام ہوکردوسہم اس کی زوجہ اورآٹھ سہم دختر اورتین تین سہم ہربہن کوملیں گے اوربھتیجے کچھ نہ پائیں گے۔اﷲ عزوجل فرماتاہے:
|
"فَاِنۡ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمۡ"[1] |
پھراگرتمہاری اولادہوتو ان(بیویوں)کاتمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے۔(ت) |
اورفرماتاہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع