30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایك لڑکی لال بائی یہ تین وارث چھوڑے پھرعورت بھی گزرگئی اورکچھ عرصہ کے بعد لڑکابھی مرگیا حسین میاں مرحوم کے مرنے پراس کی بی بی شرعی طورپراپناحصہ لے کر الگ ہوگئی اس کے ماسوا اورجوحقدار نکلے سب کو ان کے حق کے مطابق ورثہ ملا لال بائی جوچمناجی کی بیٹی تھی وہ بھی اپناحصہ لے کر الگ ہوگئی پہلے لال بائی کاشوہر مرگیا پھر وہ مرگئی اس نے اپنا وارث ایك لڑکا ابراہیم چھوڑا ابراہیم بھی دوسال بعد مرگیا ابراہیم کے دوبیبیاں ہیں ایك بسم اﷲ ایك مریم نیزچمناجی کاسالاڈھونڈھی بھائی لال بھائی کے مرحوم مرد کاماموں قاسم حاشہ یایہ دونوں دعوٰی کرتے ہوئے مرگئے،اب ان دونوں کے دولڑکے دعوٰی کرناچاہتے ہیں لہٰذا اس مسئلہ میں کیا حکم شرع ہے آخروارث ابراہیم ہوا اس نے کوئی اولاد یا بھائی بہن وغیرہ نہ چھوڑا صرف دو۲ بی بی ہیں لہٰذا کس طرح حق ہوتا ہے اور فی ہزارکیا ہرحقدار کانکلے گا۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
سوال میں رشتے بہت بعیدالفاظ مجمل محتمل سے لکھے ہیں ڈھونڈھی بھائی کوچمناجی کاسالا لکھاممکن کہ وہ لال بائی کاماموں ہو اور ممکن کہ چمناجی کی کسی اورعورت کابھائی ہو جسے لال بائی سے کوئی علاقہ نہیں یوں ہی قاسم حاشہ کولال بی کے شوہر کاماموں لکھا۔محتمل کہ وہ ابراہیم کے باپ کا ماموں ہو یاکسی دوسرے شوہرکامگرسوال میں نہ چمناجی کی کوئی اورعورت لکھی ہے۔نہ لال بائی کادوسرا نکاح بتایا جس سے ظاہر یہی ہے کہ ڈھونڈھے بھائی ابراہیم کی ماں کاماموں ہے اورقاسم حاشہ ابراہیم کے باپ کا ماموں،اگرواقعہ اسی طرح ہے اوران کے سوا اورکوئی وارث نہیں تو بعدتقدیم حقوق مقدمہ مثل مہرہردوزوجہ وغیرہ ابراہیم کا ترکہ آٹھ سہم ہوکر ایك ایك سہم ہرزوجہ اورچارسہم قاسم حاشہ اوردوسہم ڈھونڈے بھائی کوملیں گے یعنی دونوں عورتوں کامہر جس قدر ذمہ ابراہیم لازم رہا اور اس کے سوا اورجودین ابراہیم پرہو اول اداکریں۔پھرجوبچے اس کے تہائی سے ابراہیم نے اگر کوئی جائزوصیت کی ہو نافذکریں باقی مال میں فی ہزار ایك سوپچیس روپے ایك بی بی کو،ایك سوپچیس روپے دوسری بی بی کو اور پانچ سوپچیس ۵۲۵روپے قاسم حاشہ کو ڈھائی سوڈھونڈے بھائی کودیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ درمختارمیں ہے:
|
ثم عمات الاباء والامہات واخوالھم وخالاتھم واذا استووا فی درجۃ واتحدت الجہۃ قدم |
پھرمیت کے باپوں اورماؤوں کی پھوپھیاں،ان کے ماموں اور ان کی خالائیں ہیں۔جب ذوی الارحام درجے میں برابرہوں اورقرابت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع