30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیداہواضرور وارث ہے،اورعورت اگرقتل بھی کرتی مہرنہ ساقط ہوتا لانہ دین واجب لایسقط بالقتل(کیونکہ وہ دین واجب ہے جو قتل کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا۔ت)ہاں اگرخود قتل کرتی تومیراث نہ پاتی۔رہا اس کے ثبوت گویاعورت کااقرارہونا یادوسرے ثقہ عادل کی شہادت معائنہ بغیر اس کے ثبوت قتل نہ ہوتا یہاں تو اسے سزابھی قتل کرنے کے جرم میں نہ ہوتی بلکہ قتل کرانے کے،اگرواقع میں اس نے قتل کرایابھی ہوتو قتل کرنا میراث سے محروم کرتاہے۔عالمگیریہ میں ہے:
|
التسبب الی القتل لایحرم المیراث۔[1] |
قتل کاسبب بننامیراث سے محروم نہیں کرتا۔(ت) |
بہرحال بچہ بھی وارث ہے اورعورت بھی مہرپائے گی اوربعدمہرودیگر دیون ترکہ سے آٹھواں حصہ میراث بھی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳: مسئولہ عبداﷲ ازبریلی محلہ گلاب نگر ۱۹/ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ بروزسہ شنبہ
کیاحکم فرماتے ہیں حضرات علمائے دین اسلام ادام اﷲ برکاتہم مسئلہ ذیل میں کہ مسماۃ زبیدہ مطلقہ نے اپنا عقد ثالث ساتھ مسمی عبداﷲ کے بمہرشرعی جس کی تعداد چارسودرھم چاندی وقت عقد وکیل نے قائم کردی تھی کیا۔مسمی عبداﷲ مبلغ پانچسو روپیہ کاپہلے سے قرضدارتھا جب مسماۃ زبیدہ کوحال مقروضی شوہرمعلوم ہواتواپنا مہربخشنے پرازخود آمادہ ہوئی شوہر نے آئندہ وقت پرملتوی رکھا،مسماۃ ساڑھے تین ماہ عبداﷲ کے گھر زندہ رہی جب بیمارہوئی عبداﷲ کو روپیہ قرض لے کرعلاج کرانے سے منع کرتی تھی،علاج ہوا مگرمرگئی،متوفیہ کے وارث ایك شوہر ایك بیٹی جوان جودوسرے شوہرسے پیداتھی اورایك بہن دوحقیقی بھائی ہیں۔قبل وفات اپنے شوہر سے چھ روزہ کاکفارہ دے دینے کوکہا اورباوجوددریافت اپنے مہر کی بابت کچھ وصیت نہ کی اور اپنی بیٹی اپنی بہن کے سپرد کی اس کاباپ اسی شہر میں موجودتھا وقت وفات اس کے ایك بہن ایك بیوی موجود تھی بعد وفات انہوں نے کہا کہ گوروکفن فاتحہ خیرات اچھی طرح ہوناچاہئے،عبداﷲ نے کہا کہ میں مقروض ہوں مگرمہر اس کامیرے ذمہ ضرورچاہئے مقدارمہر تم چاہو تو میں روپیہ قرض لے کر گوروکفن اورفاتحہ خیرات حسب مرضی تمہاری کردوں توانہوں نے رضامندی اپنی ظاہر کی تو عبداﷲ نے روپیہ قرض لے کرگوروکفن وکفارہ وخیرات بروزدفن(۰۱/عہ)اورفاتحہ سوم میں(۸/ہہ) اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع