30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۵۶: بروزیکشنبہ بتاریخ ۱۲محرم ۱۳۳۴ھ
کیاحکم ہے شرع متین کا اس مسئلہ میں،زید نے انتقال کیا،ایك زوجہ،ایك دادی حقیقی کابھائی،ایك والد کی سوتیلی ہمشیرہ کالڑکا یعنی حقیقی دادا کاحقیقی نواسہ اوردو والد کے پھوپھیرے بھائی یعنی دادا کی بہن کے لڑکے۔ترکہ زید کا اس صورت میں کس طرح تقسیم ہوگا؟ مذکورین کے سوا کوئی غیر وارث نہیں ہے۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حسب شرائط فرائض بعدادائے مہروغیرہ ترکہ چارحصے ہوگا ایك حصہ زوجہ اورتین زیدکی سوتیلی پھوپھی کے پسرکوملیں گے،باپ کاماموں اورباپ کے پھوپھی زاد بھائی اس کے آگے محجوب ہیں کہ وہ خود زید کی پھوپھی کابیٹا ہے،توپدرزید کے ماموں،پھوپھی اور ان کی اولاد پرمقدم ہے۔درمختارمیں ہے:
|
ثم جزء جدیہ اوجدتیہ وھم الاخوال والخالات ثم عمّات الاباء والامھات واخوالھم وخالاتہم واولاد ھٰؤلاء[1]۔(ملتقطًا) |
پھرمیت کے دونوں دادوں(دادا اورنانا)کی جزء یا اس کی دونوں دادیوں(دادی اورنانی)کی جزء جوکہ ماموں اورخالائیں ہیں۔پھرمیت کے باپوں اورماؤوں کی پھوپھیاں،ان کے ماموں اوران کی خالائیں اوران کی اولادیں ہیں بالالتقاط(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
حاصلہ انہ اذالم یوجد عمومۃ المیت وخؤولتہ و اولادھم انتقل حکمھم المذکور الٰی ھٰؤلاء ثم اولادھم [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس کاخلاصہ یہ ہے کہ جب میت کے چچے،ماموں اوران کی اولادیں موجودنہ ہوں تو مذکورہ بالا حکم ان لوگوں(میّت کے آباء وامّہات کی پھوپیوں،مامؤوں اورخالاؤں)کی طرف پھر ان کی اولاد کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع