30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جومال ہندہ نے خرچ خانگی سے پس اندازکرکے جمع کیا اس کی دو۲صورتیں ہیں اگرشوہر انتظامات خانگی کے لئے اسے روپیہ دیتا ہے جس سے سارے گھرکاخوردونوش ہوتاہے جس میں خودشوہر بھی داخل،اس میں نوکروں کی تنخواہیں وغیرہ بھی شامل۔ جیسا کہ غالب رواج یہی ہے جب تو اس مال کامالك شوہرہے اورعورتیں جو اس میں سے خفیہ بچاکرجمع کرلیتی ہیں یہ جائزنہیں، اوراگرشوہر نے نفقہ زن میں کوئی مقدار مثلًا دس۱۰ بیس۲۰ یاسو۱۰۰دوسو۲۰۰روپے ماہوار مقررکردی ہے کہ وہ خاص عورت کو دی جاتی ہے اس میں سے عورت نے پس اندازکیاتووہ عورت کی ملك ہے۔ درمختارمیں ہے:
|
وقالوا مابقی من النفقۃ لھا فیقضی باخرٰی[1]۔ |
مشائخ نے کہاجونفقہ سے بچ جائے وہ عورت کی ملکیت ہے اورقاضی مزید نفقہ اس کو دلائے گا۔(ت) |
طحاوی میں ہے:
|
ویتفرع علیہ مالوقررلہا کل یوم مثلا قدرامعینا من الفضۃ فامرتہ بانفاق البعض وارادت ان تمسك الباقی فمقتضی التملیك ان لھا ذٰلك وقدمناہ[2]۔ |
اسی پرمتفرع ہے کہ اگرعورت کے لئے یومیہ چاندی کی ایك خاص مقدارمعین کی گئی عورت نے اس میں سے بعض کو خرچ کرنے کاکہا اور ارادہ کیا کہ باقی کو روك رکھے توتملیك کا تقاضایہ ہے کہ وہ ایساکرسکتی ہے اورہم اس کو پہلے ذکرکرچکے ہیں۔(ت) |
پس ان سب باتوں سے حسب تفصیل بالاجومال کی ملك ہندہ سمجھاجائے مع مہرہندہ حسب شرائط فرائض سب کے چھتیس۳۶ سہام ہو کرنو۹سہم شوہراورچھ۶ سہم مادر اورچودہ۱۴ پسراورسات دخترکوملیں گے،بہنوں کا کچھ نہیں،نابالغوں کاحصہ ان کے باپ کے قبضہ میں رہے گا،نانی سے کچھ تعلق نہیں،لڑکاسات برس اورلڑکی نوبرس کی عمرتك نانی کے پاس رہیں گے پھرباپ لے لے گا۔ نمازروزوں کے کفارہ کی اگرہندہ نے وصیت کی ہے تووہ قبل تقسیم ترکہ بعدادائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع