30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ورثہ باپ کے پاس رہناچاہئے یانانی کے پاس اولٰی مستحق کون ہے اوربچوں کی پرورش وخدمت کا حق کس کے ذمہ ہے اورمیت کی قضانمازوں اورروزوں کاکفارہ کس کے ذمہ ہوناچاہئے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
جہیز میں عام عرف یہ ہے کہ عورت اس کی مالك ہوتی ہے۔ ردالمحتارباب النفقہ میں ہے:
|
کل احدیعلم ان الجھازملك المرأۃ وانہ اذا طلقھا تاخذہ کلہ واذا ماتت یورث عنھا[1]۔ |
ہرکوئی جانتاہے کہ جہیزعورت کی ملك ہوتاہے، جب خاوند اس کوطلاق دے دے توساراجہیزلے لیتی ہے اورجب وہ مرجائے توبطورمیراث (عورت کے وارثوں میں) تقسیم کیاجاتاہے۔(ت) |
ہندہ کی قوم میں بھی اگریہی عرف ہے اوربعد موت جہیزموجودکاواپس لینااس گمان پرہے کہ لڑکی کوتاحین حیات اس کامالك کرتے ہیں بعد موت جوباقی رہا ااپنی ملك سجھ کرواپس لیتے ہیں تویہ سخت غلطی ہے جوچیزتاحین حیات کسی کی ملك کرکے اس کے قبضہ میں دے دی گئی وہ اس کا مالك مستقل ہوجاتاہے بعد موت اس کاواپس لیناناممکن وحرام ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
العمری میراث لاھلھا۔رواہ مسلم[2] عن جابر۔ |
عمرٰی(تاحیات ہبہ)اس کی میراث ہے جس کو وہ دیاگیاہے۔ اس کوامام مسلم نے حضرت جابر سے روایت کیاہے۔(ت) |
دوسری روایت میں فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
العمری لمن وھبت لہ۔رواہ عن جابر وابوداؤد[3] و النسائی۔ |
عمرٰی(تاحیات ہبہ)اس کے لئے ہے جس کو ہبہ کیاگیا۔اس کو امام مسلم نے جابررضی اﷲ عنہ سے نیزابوداؤد اورنسائی نے روایت کیاہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع