30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فِی الدِّیۡنِ وَ مَوٰلِیۡکُمْ ؕ"[1]۔ |
نہ ہوں تودین میں تمہارے بھائی ہیں اوربشریت میں تمہارے چچازاد۔(ت) |
وارث بنانے کی دوصورتیں ہیں، ایك حقیقۃً، وہ یہ کہ مثلًا کوئی نومسلم عاقل بالغ جس کاکوئی وارث نسبی نہیں اپنے مسلمان کرنے والے خواہ کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تومیرامولٰی ہے میں مرجاؤں توتومیراوارث ہو اورمیں جرم کروں توتومیری طرف سے جرمانہ دے اور وہ قبول کرلے تویہ قبول کرنے والا اس کاشرعًا وارث ہوجاتاہے کہ اس کاکوئی رشتہ دار نہ ہوتو یہ اس کاترکہ پاتاہے۔
دوم حکمًا وہ یہ کہ زیدکسی کی نسبت اپنے ایسے رشتہ کااقرارکرے جس سے وہ اس مقرکے کسی عزیز کی اولاد قرارپاتا ہوخود اپنی اولاد نہ بتائے مثلًاکہے میرابھائی ہے یابھتیجاہے یاچچاہے یاچچاکابیٹاہے اورجس سے اس کانسب قراردیاہے اس سے نسب ثابت ہوجائے مثلًابھائی کہااورباپ نے تسلیم کیاکہ واقعی یہ میرابیٹاہے، تووہ حقیقی بھائی ہوگیا اوریہ مقراپنے اس اقرارسے کبھی پھرے نہیں تو اس صورت میں یہ شخص اس مقرکاترکہ پائے گا جبکہ اس کانہ کوئی رشتہ دارہو نہ پہلی صورت کاحقیقی وارث بنایاہوا۔ بس یہ دوصورتیں وارث بنانے کی ہیں اورکوئی نہیں۔ والمسائل مصرح بھا فی الکتاب(اوران مسائل کی کتاب میں تصریح کردی گئی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۹ تا ۱۵۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مسماۃ عائشہ بیگم بنت نامدارخاں(زوجہ غلام احمدخاں ساکن بریلی محلہ قلعہ) نے بسبب لاولدہونے کے اپنے حقیقی بھائی وزیرخاں ولدنامدار خاں ساکن بدایون کےبیٹے مولوی یعقوب علی خاں کوبحالت شیرخواری بطور اپنے بیٹے کے پرورش کرکے تعلیم وتربیت میں کماحقہ کوشش کی اورشادی بیاہ وغیرہ کے تمام رسومات مثل اولاد خودانجام دئیے۔ مولوی یعقوب علی خاں کے زوجہ اولٰی سے علی مظفرخاں پیداہوئے، علی مظفرخاں کی ماں کاانتقال ہوگیا جبکہ مولوی یعقوب علی خاں نے دوسری شادی کاقصدکیا تو ان کی پھوپھی مسماۃ عائشہ بیگم نے بنظر دوراندیشی اپنی نصف جائداد بنام مولوی یعقوب علی خاں (بلفظ مولوی یعقوب علی خاں خلف غلام احمدخاں) اورنصف جائداد بنام علی مظفرخاں پسرمولوی یعقوب علی خاں منتقل کردی بموجب اس کے سرکاری کاغذات میں عملدرآمدہوکر اس جائداد پر قبضہ مالکانہ مولوی یعقوب علی خاں اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع