30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من۲۴ لکل بنت۱۱ وللاخ ۲ ولیس ھٰکذا بل ھو من ۹ لکل بنت۴ وللاخ واحد فھذا ھوالفقہ فی المسئلۃ و باﷲ التوفیق،واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
تو مسئلہ ۲۴ سے بنتاگیارہ گیارہ ہربیٹی کواوردو بھائی ملتے حالانکہ ایسانہیں ہے بلکہ مسئلہ نوسے بناکر چارچار ہربیٹی کو اور ایك حصہ بھائی کو دیں گے۔چنانچہ مسئلہ میں یہی فقہ ہے،اور اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے توفیق ہے۔واﷲ سبحانہ،وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۴۷،۱۴۸: ازقصبہ بہارضلع بھنڈ ریاست گوالیار مرسلہ قاضی یعقوب علی ۷رجب ۱۳۳۲ھ
سوال اوّل: بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم امّا بعد کیافرماتے ہیں علمائے دین اورمفتیان شرع متین کہ
ترکہ سسر میں بموجودگی دیگرورثاء بلاواسطہ براہ مستقیم داماد کاکیاحق ہے یانہیں ہے؟بیّنواتوجروا۔
امیدکہ جواب سے بغورملاحظہ بصیغہ بیرنگ مشرف فرمائے۔والسلام
الجواب:
داماد یاخسرہونا اصلًا کوئی حق وراثت ثابت نہیں کرسکتا خواہ دیگر ورثاء موجود ہوں یانہ ہوں ہاں اگر اوررشتہ ہے تواس کے ذریعہ سے وراثت ممکن ہے مثلًاداماد بھتیجا ہے خسرچچاہے تواس وجہ سے باہم وراثت ممکن ہے ایك شخص مرے اوردووارث چھوڑے ایك دختراورایك بھتیجا کہ وہی اس کاداماد ہے توداماد بوجہ برادرزادگی نصف مال پائے گا اوراگراجنبی ہے توکل مال دختر کو ملے گا داماد کاکچھ نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
سوال دوم: بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم ط نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔
متبنّی کرنااوروارث بنانااسلام میں جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
متبنّی کرنااسلام میں کچھ اصل نہیں رکھتانہ وہ وارث ہوسکے۔
|
قال اﷲ تعالٰی " اُدْعُوۡہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنۡدَ اللہِ ۚ فَاِنۡ لَّمْ تَعْلَمُوۡۤا اٰبَآءَہُمْ فَاِخْوٰنُکُمْ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: انہیں ان کے باپ ہی کاکہہ کرپکارویہ اﷲ تعالٰی کے نزدیك ٹھیك ہے پھراگرتمہیں ان کے باپ معلوم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع