30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیدکی زوجہ مسلمان ہوگئی اوردوپسران بھی کہ جن کی عمر ۸ و۴ سال کی ہے ان کوبھی مسلمان کیا اور دو دختران ومادر زید نے اسلام ناقبول کرکے زوجہ زید سے علیحدگی اختیار کی بعدانتقال زید کے زوجہ مال منقولہ وغیرمنقولہ پرقابض ومتصرف رہی اور اب بھی قابض ہے مادر زید نے زوجہ زید کے مسلمان ہوجانے کی وجہ سے عدالت مجازمیں دعوٰی کیاہے کہ مال منقولہ وغیرمنقولہ اوردونوں پسر میرے سپردکئے جائیں کیونکہ زوجہ زیدمسلمان ہوچکی جب کہ زوجہ زیدودونوں پسران مسلمان ہو کر اسلام قبول کرچکے ہیں توایسی حالت میں کیازوجہ زید شوہر کی جائداد سے محروم ہوسکتی ہے اوردونوں پسران جواسلام لاچکے ہیں وہ سپرد زید کی مادرجوہندوہے ہوسکتے ہیں اوران پسران کی پرورش کااب اہل اسلام کوحق ہے یااہل ہنودکو؟ اورکیامسلمان ہونے کے بعد ہندوپسران کے حقدارہوسکتے ہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
تقریرسوال سے صراحۃً ظاہرہے کہ عورت بعدمرگ زید مسلمان ہوئی ہے اس لئے وہ اور اس کی اولاد ترکہ سے محروم نہیں ہو سکتی اگرچہ اس کے بعد مسلمان ہوگئے،درمختارمیں ہے:
|
الکافر یرث بالنسب والسبب کالمسلم[1]۔ |
کافرمسلمان کی طرح نسب اورسبب کی وجہ سے وارث ہوتا ہے۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
معلوم انہ حین موت مورث لم یکن مسلما فلم یوجد المانع حین استحقاقہ الارث وانما وجد بعدہ فکان کمن اسلم بعد موت مورثہ الکافر فلم یکن فی الحقیقۃ ارث مسلم من کافر بل ھو ارث کافر من کافر[2]۔ |
یہ معلوم ہے کہ وہ مورث کی موت کے وقت مسلمان نہیں تھا تومیراث کامستحق ہونے کے وقت مانع نہیں پایاگیابلکہ بعد میں پایاگیا تو گویا وہ اس شخص کی طرح ہوگیا جوکافرمورث کے مرنے کے بعد مسلمان ہوا،تو یہ درحقیقت مسلمان کاکافر کی میراث پانانہ ہوا بلکہ کافر کاکافر کی میراث پاناہوا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع