30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتوٰی دے بلکہ صاحب شریفیہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے صرف اس پربنائے کار کی ہے کہ جب امام ایك طرف اورصاحبین دوسری جانب ہوں تومفتی کو اختیارہے جس طرف چاہے فتوٰی دے مگرتحقیق یہ کہ یہ صرف اس مفتی کے لئے ہے کہ منصب اجتہاد رکھتاہو،مفتی مقلد پرلازم ہے کہ ہمیشہ قول امام پرفتوٰی دے مگریہ کہ ائمہ فتوٰی نے اس کے خلاف پراختلاف کیاہو،
|
کما فی البحر الرائق [1] وتنویرالابصار والفتاوی الخیریۃ و الدرالمختار وغیرھا من معتمدات الاسفار۔ |
جیسا کہ البحرالرائق،تنویرالابصار،فتاوٰی خیریہ اوردرمختار وغیرہ کتابوں میں ہے۔(ت) |
تویہاں موقع کی بحث ہی فضول ہے نہ یہاں اختلاف موقع کی کوئی وجہ چنداں معقول ہے ہاں کہہ سکتے ہیں اوّلًا اگردادا مفلس اوربھائی غنی ہوں توقول امام پرفتوٰی اولٰی ہے اورعکس ہوتو مقاسمہ۔
ثانیًا: بھائیوں میں کوئی فاسق ومسرف ہوکہ اسے مال دینافسق پراعانت کرناہے اوردادا صالح توقول امام پرفتوٰی اولٰی ہے اور عکس تومقاسمہ۔
ثالثًا: اگردادا اپنا حصہ لے کر امورخیر واشاعت علم دین میں وقف کردیناچاہتاہے نہ بھائی توقول امام پرفتوٰی اولٰی ہے کہ نفع دین ہے اور عکس ہوتومقاسمہ۔
رابعًا:جد جواد وسخی ہے اور اس کامال اکثر امورخیر میں صرف ہوتاہے اوربھائی ایسے نہیں توقول امام پرفتوٰی اولٰی ہے کہ نفع مساکین مسلمین ہے اور عکس ہوتو مقاسمہ مگر ان میں کوئی وجہ ایسی نہیں کہ مذہب مفتٰی بہ سے عدول چاہے عمل ہمیشہ اسی پر ہے جومفتٰی بہ ہو۔واﷲ التوفیق۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۳: ۱۰/جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ
کسی وارث کے کان لم یکن(کالعدم)کرنے کی مثالیں ارشاد ہوں جن سے اس کے مواقع پر روشنی پڑے۔بیّنواتوجروا۔
[1] البحرالرائق کتاب القضاء فصل فی التقلید ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۷۰۔۲۶۹،الفتاوی الخیریۃ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۳۳،الدرالمختار رسم المفتی مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع