30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جوشخص گنگوہی اور اس کے مثال کے کافرہونے میں شك کرے وہ خود کافرہے نہ کہ جو اس کا مرید اوراس کے گروہ کاسرغنہ ہو ایسے مرید کے نیچے کے نطفے ضرور اوپرہوجائیں گے اورمرتد کسی کاوارث نہیں ہوسکتا اور اس کی امامت کے کیا معنی،جو اس کی اس حالت پرآگاہ ہوکر اسے قابل امامت جانے گا اس کی نمازدرکنا ایمان بھی نہ رہے گا لان من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر[1](اس لئے کہ جو اس کے عذاب اورکفرمیں شك کرے وہ خود کافر ہے۔ت)اور ایسے سے میل جول اوراختلاط بلاشبہہ حرام ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی" وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ"[2]۔ وقال اﷲ تعالٰی" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اورظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔(ت) اوراﷲ تعالٰی نے فرمایا:اورجوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یادآنے پرظالموں کے پاس نہ بیٹھ،واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۴۲: ۱۰/جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیك دادا کے سامنے سب بہن بھائی بالکل محروم ہیں اورصاحبین رضی اﷲ تعالٰی عنہما سگے سوتیلے بہن بھائیوں کو دادا کے ساتھ ترکہ دلاتے ہیں،شریفیہ میں فرمایا:مفتی کو اختیارہے جیساموقع دیکھے فتوٰی دے۔اس"موقع"کی کیاصورت ہے؟بیّنواتوجروا۔
الجواب:
مفتٰی بہ امام ہی کاقول ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہ مفتی اسی پرفتوی دے،متون نے قول امام ہی اخذکیا اورعامہ ائمہ فتوٰی نے اسی پر فتوٰی دیا صرف مبسوط شمس الائمہ سرخسی سے قول صاحبین پر فتوٰی منقول ہوا اورزاہدی نے مجتبٰی میں کہ تصنیف ومصنف دونوں نامعتبرہیں اورمصنف سراجیہ نے اپنی شرع میں اس کا اتباع کیاتوفتوٰی احق واقعٰی قول امام ہی پر ہے۔صاحب شریفیہ نے بیان لحاظ موقع نہ لکھانہ اورکسی معتمد کے کلام سے یہاں ایساخیال میں ہے کہ مفتی جیساموقع دیکھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع