30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں عمرو کامدیون ہوگا اورادائے دین تقسیم ترکہ پرمقدم ہے پہلے وہ اورجواور دین ہو اداکرکے باقی میں میراث جاری ہوگی مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ عمروبلاوجہ شرعی زید کی جائدادپرقابض ہ وجائے اسے اپنے دین کامطالبہ پہنچتاہے اگرواقع میں دین ہواوراگرعمرو اس کے پاس یابطور مہمان غرض قرضًا کہلانے کاقراردادنہ تھا توعمرو ایك حبہ کامطالبہ نہیں کرسکتا اورجائداد سے وارثان شرعی کومحروم کرناظلم وغصب ہے والظلم ظلمات یوم القٰیمۃ[1](اورظلم قیامت کے دن تاریکیوں کاباعث بنے گا۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷: ازکانپور چوك صرافہ بردکان محمدعمر محمدقمرسوداگر مسئولہ عبدالکریم صاحب ۱۹صفر۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خاندان طوائف میں جولڑکے کے نکاح پربیوی اس کو اس کی والدہ اور والد اور ماموں وغیرہ کاحق متروکہ میں ملے گا یا خالد کی لڑکی کے لڑکے کوبوجہ کمائی پیشہ طوائفی کے حق ملے گاخلاصہ یہ کہ خاندان طوائف میں نکاح کرنے سے حق زائل ہوجاتا ہے یاشرع شریف کے مطابق حق ملتاہے بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب:
نکاح کرنے سے حق زائل نہیں ہوتا ہے خصوصًا اس فرقہ کانکاح کہ وہ توگناہ عظیم سے توبہ ہے مگرطوائف کے لئے بے نکاحی اولاد صرف اپنی ماں اورمادری رشتہ والوں کاحصہ پائیں گے شرعًا اس کے لئے کوئی باپ نہیں کہ اس سے یاپدری رشتہ والوں سے حصہ پائیں۔واﷲ تعالٰی تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸: ازاحمدآباد گجرات مرسلہ مولوی علاؤالدین صاحب زیدمجدہ ۵ ربیع الآخر۱۳۳۱ھ
اس ملك گجرات میں ایك قوم ہے جومیمن وبورے کرکے مشہورہیں ان میں بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ اپنے مال متروکہ سے اپنی لڑکی کو محروم رکھتے ہیں اور جس قدرمال واسباب ہوتاہے وہ کل لڑکوں کاحصہ مقررکرکے جاتے ہیں بلکہ وہ لوگ ہوں کہتے ہیں،اورسرکاری دفتروں میں دستخط
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع