30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الی النفاد الاتری انك ذکرت فی الکل العد وماالعد الا الانفاد فنسقط ثلثۃ من خمسۃ یبقی اثنان فنسقطھما من ثلثۃ یبقی واحد نسقطہ من اثنین لا یبقی شیئ وھنالك یتحقق العدوان ترك العمل بعد خروج الواحد للعلم بانہ یعد کل شیئ بل قل ان تساویا فتماثل والا فینقص الاصغر من الاکبر فان افناہ فتداخل والایسقط الباقی من الاصغر فان بقی فالباقی من الباقی وھکذا الی ان یحصل النفاد فان کان بواحد فتباین اوبعدد فتوافق ثم لیس حاصلہ الا ماقدمت فی التربیع اما ذکر الاسقاطات فبطریق استخراج النسبۃ الصق۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
انتہا اس کے ختم ہونے پرہے۔کیانہیں دیکھتے کہ آپ نے کل میں عدّکوذکرکیا ہے اورعدّنہیں ہے مگرختم کرنا۔چنانچہ ہم تین کو پانچ سے ساقط کریں گے باقی دوبچے گا پھردوکوتین سے ساقط کریں گے باقی ایك بچے گا پھردوکوتین سے ساقط کریں گے توباقی کچھ نہیں بچے گا تو وہاں پرعدّ(ختم کرنا)متحقق ہوگا۔ اگرچہ ایك کے نکلنے کے بعد عمل کوچھوڑدیاجاتاہے کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ ایك ہرشیئ کوختم کردیتاہے بلکہ یوں کہوکہ اگردوعدد باہم مساوی ہیں توتماثل ہے ورنہ چھوٹے کو بڑے سے کم کیاجائے گا اگرچھوٹا بڑے کوفناکردے توتداخل اوراگرفنانہ کرے تو باقی کوچھوٹے عدد سے کم کیاجائے گا پھر اگرکچھ باقی بچا تو اس کوباقی سے کم کریں گے اسی طرح کرتے رہیں گے یہاں تك ختم ہونا حاصل ہوجائے۔اگرختم ہونا واحد سے حاصل ہواتوتباین اوراگرکسی عدد سے حاصل ہواتو افق ہے۔پھر اس کاحاصل نہیں مگر وہی جومیں چارقسمیں بناتے ہوئے ذکر کرچکاہوں۔رہااسقاطات کاذکرتو اس کو نسبت کے استخراج کے طورپر ملحق کرلے۔واﷲ تعالٰی اعلم (ت) |
مسئلہ ۱۳۵: ۸/جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ
جب زید کی بی بی کاانتقال ہواتو اس کے زیور یعنی جہیزمیں سے اس کی تجہیزوتکفین کی اس واسطے کہ زیدخوددست نگردوسرے کاہے صرفہ میت اورفاتحہ وغیرہ کااس کے جہیز سے کیاگیا،اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ اس کے جہیزواپس کرنے میں یہ صرفہ مجراہویانہیں؟
الجواب:
فاتحہ کاصرف اصلًامجرانہ ہوگا وہ ایك ثواب کی بات ہے جوکرے گا اس کے ذمہ ہوگا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع