30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھناك شیئا یسمی صفرا بل معناہ ان لاشیئ ھناك اصلا ولھذا لا اثر لحطہ من عدد ولاضمہ الیہ کما ذکرت ولوکان شیئا لاستحال ان یکون شیئ دون شیئ اوشیئ مع شیئ مساویا لشیئ نفسہ فیتساوی الکل والجزء بل کل الکل وجزء الجز کما لایخفی وبہ تبین وجہ ثالث وھو ان الصفر مع اثنین مثلا لیس مجموع شیئین بل الشیئ وحدہ ومعنی جمع الصفر مع عدد ان لم یجمع معہ شیئ فلیس الواحد نصف مجموع حاشیتیہ بل نصف حاشیۃ واحدۃ وامّا رابعًا فلانہ لوسوغ کون العدم حاشیۃ لکان العدم المضاف الٰی شیئ معین مثل او ۲ وغیرھما اولی بذٰلك فکان الصفر ایضا عدد الان احدی حاشیتیہ واحد والاخری۔اومجموعھما صفرنصفہ صفر وکونہ مثل المجموع لاینفی کونہ نصفہ لانہ معتبر فی الحساب قطعا الاتری ان نصف |
وہاں کوئی ایسی شیئ موجودہے جس کانام صفر ہے بلکہ معنی یہ ہوگا کہ وہاں بالکل کوئی شیئ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ صفر کوکسی عدد سے گھٹائیں یا اس کے ساتھ ملائیں کوئی اثرنہیں ہوتاجیساکہ تونے ذکرکیا ہے۔اگروہ شیئ ہو تو اس کاایك شیئ ہونا سوائے دوسری شیئ کے اورکسی شیئ کے ساتھ اس طرح شیئ ہوناکہ وہ شیئ خود اس کے مساوی ہوجائے محال ہوگاکیونکہ اس طرح تو کل جزء کے بلکہ کل کاکل جزء کے جزء کے برابرہوجائے گا جیساکہ پوشیدہ نہیں،اور اسی سے وجہ سوم واضح ہوگئی اور وہ یہ ہے کہ صفر کادوکے ساتھ اکٹھاہونا دو چیزوں کامجموعہ نہیں بلکہ ایك ہی چیزہے۔صفرکے عدد کے ساتھ جمع ہونے کامعنی یہ ہے کہ اس عدد کے ساتھ کوئی شیئ جمع نہیں ہوئی تو اس طرح واحد اپنی دونوں طرفوں کانصف نہ ہوابلکہ ایك طرف کانصف ہوا۔وجہ چہارم اس لئے کہ اگر عدد کوعدد کاحاشیہ(طرف)قرار دے دیاجائے توکسی معین شیئ کی طرف مضاف ہونے والا عدم بدرجہ اولٰی طرف قرارپائے گا جیسے ۱ اور ۲ وغیرہ تو اس طرح صفر بھی عدد بن جائے گی کیونکہ اس کے ایك طرف واحد اور دوسری طرف ۱ (ایک)ہے جن کامجموعہ صفرہے اور اس کانصف بھی صفر ہے۔اس کامجموعے کی مثل ہونا اس کے نصف ہونے کی نفی نہیں کرتا کیونکہ حساب میں یہ قطعی طورپرمعتبرہے۔ کیا تو نہیں دیکھتاکہ ۲۰ کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع