30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھٹاحصہ ہے جوبوقت وفات زید متروکہ زید تھا۔
|
والمسائل مبینۃ فی الفتاوی العالمگیریۃ والفتاوی الخیریۃ والعقود الدریۃ وغیرھا وقد اوضحناھا فی فتاوانا غیرمرۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ان مسائل کوفتاوٰی عالمگیریہ،فتاوٰی خیریہ اور عقودالدریہ وغیرہ میں بیان کیاگیاہے اورہم نے اپنے فتاوٰی میں کئی بار ان کوواضح کیاہے۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ ۱۳۲: ازشہر مسئولہ جناب سلطان احمدخان صاحب زیدمجدہ، ۴صفرالمظفر۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ آفتاب بیگم کا انتقال ہوا اس کے وارثوں میں ایك حقیقی چچا زادبہن مسماۃ عمدہ بیگم کاپوتاوصی احمداورایك علاتی خالہ بنوبیگم اورچاراخیافی بھتیجے جن کے باپ کاانتقال آفتاب بیگم کے سامنے ہو گیاموجودہیں وصی احمد نے تجہیزوتکفین اپنے صرف سے کی اور اس وصی احمد کومتوفیہ نے اس شرط سے اپناوصی بھی کیاکہ بعد اخراجات تجہیزوتکفین وفاتحہ ودرود بعد جس قدرروپیہ بچے وہ سب تیراہے اب تقسیم ترکہ ان وارثوں کے مقابلہ میں کیونکر ہوگا اور اخراجات تجہیزوتکفین متروکہ سے نکلے گا یانہیں؟ شجرہ ذیل میں درج ہے۔

الجواب:
برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دیون و وصایا آفتاب بیگم کاترکہ چارسہم ہوکر ہراخیافی بھتیجے کو ایك ایك ملے گا اورچچازاد اورخالہ کچھ نہ پائیں گی آفتاب بیگم کی تجہیزوتکفین کہ وصی احمدغیروارث نے اپنے مال سے کی وہ بطوراحسان وسلوك نیك واقع ہوئی اس کامعاوضہ نہ پائے گا کہ وہ نہ وارث ہے نہ وصی ہے اس کہنے سے کہ بعد از ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع