30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قریب اورچارقطعہ مکانات تخمینًا اکیس سو روپے کے جملہ چارہزار روپے کی مالیت بچی جس کو ہرسہ پسران زید نے باہم متساوی تقسیم کرلیا اورمسماۃ فاطمہ بی کو ترکہ زید سے کچھ نہ دیا پسران زیدمتروکہ سے تجارت کرتے رہے،بعد تقسیم متروکہ تین چارسال بعد مسماۃ فاطمہ بی فوت ہوئی اس نے دو وارث ایك لڑکا عبداﷲ ایك دخترسعیدہ کو چھوڑا،آج تك زید کو فوت ہوئے عرصہ تخمینًا بارہ چودہ سال گزراہوگا پسران زید وقت تقسیم کرلینے متروکہ سے اس وقت تك علیحدہ علیحدہ تجارت کرتے رہے ہیں اور اس وقت ہرسہ پسران زید کے پاس تخمینًا بیس ہزارروپے کے ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ ورثاء فاطمہ بی،عبداﷲ و سعیدہ متروکہ زید سے جوکہ ذمہ پسران زید واجب الادا ہے پانے کے مستحق ہیں یانہیں؟ آیا اس وقت جس قدرتعداد مالیت نزد پسران زید جوقریب بیس ہزار کے ہے اس جملہ مالیت سے کیونکہ ترکہ فاطمہ بی کاجوکچھ تھا کچھ نہ دیاگیا تو متروکہ فاطمہ بی بھی اس وقت تك شامل ہے ہرسہ پسران کے حصول میں اور ترقی پارہاہے یا اس تعداد میں جوبیالیس سورپے کی مالیت بعد پرورش و شادی بچی اورباہم پسران زید نے تقسیم کیا ہے اس میں سے پانے کی مستحق ہوگی یا ایك ہزار مصارف شادی اورتیرہ سو مصارف خوردونوش جملہ بیالیس سوتقسیم شدہ شامل کرکے کل چھ ہزار پانچ سو روپے ہوئے اس سے پانے کی مستحق ہے۔ جواب مع عبارات چاہئے۔
الجواب:
اگرپسران زید مقرہوں کہ یہ تجارت مملوکہ زید تھی اوروقت وفات زید اس کی والدہ فاطمہ زندہ تھی اور اس کو حصہ نہ دیاگیا تو وارثان فاطمہ پسران زید سے اس کل مال کاچھٹاحصہ حسب شرائط فرائض پانے کے مستحق ہیں جو وقت وفات زید موجود تھاخواہ مکانات موجود ہوں یامال تجارت یا زرنقد یا اسباب وغیرہ۔خوردونوش پسران میں جوصرف ہواوہ انہیں کے حصوں پر پڑے گا حصہ فاطمہ کو اس سے تعلق نہیں دو۲پسران کی شادی میں جو اٹھا وہ انہیں دوپرپڑے گا حصہ فاطمہ سے مجرانہ ہوگا بعد وفات زید تا زمان تقسیم وبعد تقسیم تاحال جوکچھ مال میں تجارت کے ترقیاں ہوئیں ان میں بھی فاطمہ کی ملك نہیں جبکہ وہ تجارت عمرو وصی زید وپسران زید بطورخود کرتے رہے اورفاطمہ اس میں شریك نہ ہوئی ہاں جبکہ حصہ فاطمہ اس میں شامل تھا تو اس کے حصہ سے جوترقی ہوئی پسران زید کے لئے ملك خبیث ہے ان کوحلال نہیں کہ وہ اسے اپنے تصرف میں لائیں بلکہ واجب ہے کہ اس قدرمال تصدیق کردیں یاوارثان فاطمہ کو دے دیں اوریہی بہتر وافضل ہے جومکان متروکہ زید نہ تھا بلکہ مال تجارت سے وصی زید یاپسران زید نے خودخریدا اس مکان میں حصہ فاطمہ نہیں بلکہ اس کاحصہ صرف اس قدر کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع