30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگرایسانہیں بعض ورثاء کومحروم کرناضرورظلم ہے جس کے لئے حدیث صحیح نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما لاتشہد فی علٰی جور[1] (مجھے ظلم پرگواہ مت بنا۔ت)کافی۔ابن ماجہ کی حدیث میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ یوم القٰیمۃ[2]۔وھو عند الدیلمی عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلفظ من زوی میراثا عن وراثہ زوی اﷲ عنہ میراثہ من الجنۃ[3]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
جواپنے وارث کی میراث سے بھاگے اﷲ تعالٰی روزقیامت جنت سے اس کی میراث قطع فرمادے۔(یہ حدیث دیلمی کے نزدیك حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ان لفظوں کے ساتھ مروی ہے کہ جس شخص نے اپنے وارث سے میراث کو سمیت دیا اﷲ تعالٰی جنت سے اس کی میراث کو سمیٹ دے۔ت)واﷲ سبحانہ،وتعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۱۳۱: مرسلہ عبدالحق برادر حاجی عبدالرزاق ازپیلی بھیت محلہ عنایت گنج ۱۷ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ
زیدنے بعد وفات تین بیٹے عبدالقدیر،عبدالحفیظ،عبدالبصیر اوروالدہ مسماۃ فاطمہ بی کووارث چھوڑا،زید اپنی حیات میں بہ شراکت عمروتجارت کرتاتھا زید نے بحالت مرض الموت اپنی وفات سے ایك یا دو روز قبل اپنے شریك عمرو سے کہاتینوں پسر اپنے تمہارے سپرد کرتاہوں اور زید نے اپنی حیات میں بڑے بیٹے کی شادی کردی تھی عمرونے بعد وفات زید کے تجارت کو بجنسہٖ جاری رکھااس خیال سے کہ پسران زید خورد سال کی پرورش وشادی تجارت سے ہوجائے گی جوبچے گا وہ کام آئے گا۔چنانچہ بڑے لڑکے کو بجائے زیددکان پربٹھایا ہرسہ پسران کو تجارت مشترکہ سے تنخواہ ماہانہ دیتا رہا وفات زید کے تخمینًا چھ سات سال بعد متروکہ زید سے عمرو نے دو۲ پسران کی شادی کردی ایك ہزار کے قریب صَرف ہوا اورتیرہ سوکے قریب مصارف خوردو نوش میں صَرف ہوا پھراکیس سو روپیہ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع