30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

مسئلہ ۱۳۰: ازدیورہ ڈاکخانہ مئو ضلع گیا مرسلہ شیخ ولایت حسین صاحب ۲۰جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداپنے ورثاء کو محروم الارث کرکے اپنی جائداد موروثی ومتروکی ومحصولی کواپنے بعض ورثاء کودے دیناچاہتاہے۔آیابموجب حدیث نعمان بن بشیر رضی اﷲتعالٰی زید کایہ فعل ظلم ہوگا اوروہ شخص ظالم اورگنہ گارہوگا یانہیں؟ اورحق تلفی اس شخص نے بعض ورثاء کے مقابل میں کیایانہیں؟ بیّنواتوجروا بالکتاب والسنۃ۔
الجواب:
جس وارث کومحروم کرناچاہتاہے اگر وہ فاسق معاذاﷲ بدمذہب ہوتو اسے محروم کرناہی بہتر وافضل ہے۔خلاصہ ولسان الحکام و فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
لوکان ولدہ فاسقا واراد ا ن یصرف مالہ الٰی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذا خیرمن ترکہ [1]۔ |
اگر کسی کی اولاد فاسق ہو اور وہ چاہے کہ اپنے مال کو نیکی کے کاموں پرخرچ کرکے فاسق اولاد کومیراث سے محروم کردے تو ایساکرنا فاسق کے لئے مال چھوڑجانے سے بہترہے۔(ت) |
بدمذہب بدترین فساق ہے،فاسق میں یہ خوف تھاکہ مال اعمال بد میں خرچ کرے گا،بدمذہب میں یہ اندیشہ کہ اعانت گمراہی و ضلالت میں اٹھائے گا یہ اس سے لاکھ درجے بدترہے۔غنیہ میں ہے:
|
الفسق من حیث العقیدۃ اشد من الفسق من حیث العمل[2]۔ |
عقیدہ کے اعتبارسے فاسق ہوناعمل کے اعتبارسے فاسق ہونے سے بدتر ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع