30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مائۃ دینار ثم مات الزوج ولم یترك الاخمسین دینارا فقلت یقسم بین البنتین والاخ اتساعا بقدر سھامھم لانہ ذکر فی کتاب العین والدین اذا کان علی بعض الورثۃ دین من جنس الترکۃ یحسب ماعلیہ من الدین کانہ عین وبقی الخمسون دینارا فی نصیب البنتین والاخ فتکون بینھم علی سھامھم من اصل المسئلۃ وقد افتی کثیر من مفتی زماننا انہ یقسم الخمسون بینھم اثلاثا وانہ غلط فاحش [1]اھ اقول و نظیرہ الغلط الواقع فی مسئلۃ زوج وام وعم وقد تخارج الزوج علی مافی ذمتہ من المھر فقسموا البقیۃ اثلاثا للام سھم وللعم سھمان والصواب العکس للعم سھم وللام سھمان کما حررہ فی الدر المختار[2]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
خاوند پرقرض ہیں اس نے کوئی اورشیئ ترکہ میں نہیں چھوڑی،پھر اس کاشوہر صرف پچاس دینار چھوڑ کر مرگیا تو میں نے جواب میں کہا کہ دونوں بیٹیوں اور بھائی پران کے سہام کے مطابق نوحصے بناکر مال کوتقسیم کیاجائے گا کیونکہ کتاب العین والدین میں مذکورہے کہ جب کسی وارث پر ترکہ کی جنس سے قرض ہوتو وہ قرض اس کے حصہ میں شمارہوگا گویا کہ وہ عین ہے اب چونکہ دونوں بیٹیوں اوربھائی کے حصے میں پچاس دینار باقی بچے ہیں لہٰذا وہ ان پراصل مسئلہ میں سے ان کے سہام کے مطابق تقسیم ہوں گے۔ہمارے زمانے کے بہت سے مفتیوں نے فتوٰی دیاہے کہ پچاس دینار ان میں تین حصے بناکر تقسیم کئے جائیں گے حالانکہ یہ فاحش غلطی ہے اھ ۔میں کہتاہوں اس کی نظیر وہ غلطی ہے جوخاوند، ماں اورچچا کے مسئلے میں واقع ہوئی جبکہ خاونداپنے مہرکے بدلے میں ترکہ سے دستبردار ہوگیا توعلماء نے باقی کو تین حصے بناکر ایك ماں اوردوچچا کودینے کافتوٰی دیا حالانکہ صحیح اس کے برعکس ہے یعنی ماں کودو اورچچا کوایك حصہ ملے گا جیسا کہ درمختارمیں اس کوتحریر فرمایاہے۔واﷲ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع