30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۲)جس مکان کومتعلق خانقاہ،مہمان خانہ یالنگرخانہ موسومل کیاجائے یاجس مکان میں سجادہ نشین رہتے چلے آئے ہوں یاجس مکان میں مہمان عرس کے شریك ہونے والے یاتعلیم ذکرالٰہی پانے والے قیام پذیر ہواکرتے ہوں وہ مکان شرعًا قابل تقسیم ہے یانہیں؟
الجواب:
اگرملك مورث ہے تقسیم ہوگا اوراگر اس کاوقف ہونا بہ ثبوت شرعی ثابت ہو تومنقسم نہ ہوسکے گا صرف اتنی بات سے کہ اس کانام مہمان خانہ یالنگرخانہ ہے یااس میں سجادہ نشین رہتے یااشخاص مذکورین قیام کرتے تھے وقف ہونا ثابت نہیں ہوتا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱۳)اگرکسی مکان کوخانقاہ کے نام سے موسوم کیاہوتو وہ شرعًا اس بناء پر وقف ہوسکتاہے یانہیں؟
الجواب:
نہ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱۴)قرآن وحدیث جس سے استخراج فتاوٰی کاہوتاہے اس میں کوئی تفصیل ایسی پائی جاتی ہے کہ احکام طریقت اوراحکام شریعت میں اختلاف یاکچھ تفاوت ہو۔
الجواب:
یہ محض جھوٹ ہے اوربددینوں کامذہب ہے،اہل اسلام کے نزدیك جوطریقت شریعت کے خلاف ہومردود ہے۔حضرت سیدالطائفہ جنیدبغدادی وغیرہ اکابراولیاء رضی اﷲ تعالٰی عنہم فرماتے ہیں:
|
"کل حقیقۃ ردتہ الشریعۃ فھی زندقۃ"[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
"جس حقیقت کوشریعت رَ د فرمائے وہ بے دینی ودہریت ہے"۔اﷲ تعالٰی خوب جاننے والاہے۔(ت) |
(۱۵)ورثاء کی ناقابلیت ان کوکسی ترکہ مورث سے محروم رکھ سکتی ہے؟
الجواب:
وراثت سے محرومی کے صرف چار سبب ہیں کہ ۱وارث غلام ہویا۲مورث کاقاتل یا۳ کافر ہو یا۴دارالحرب میں رہتاہو باقی کوئی نا قابلیت اسے اس کے حق شرعی سے محروم نہ کرے گی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
[1] الرسالہ القشیریۃ ومن ذلك الشریعۃ والحقیقۃ مصطفی البابی مصر ص۴۳،الحدیقۃ الندیۃ الباب الاول الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۱۶۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع