30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
یہ سوال مجمل ہے معلوم نہیں کہ بکرکے بعد زید یاعمرو یاحامد کوئی زندہ تھا یانہیں،نہ معلوم کہ عابدہ کاشوہر محمود عابدہ سے پہلے مرایابعد،اگربعد کومراتو اس کے ماں یاباپ یادوسری زوجہ اوراولاد سوائے ولید تھی یانہیں،بہرحال حکم یہ ہے کہ عمروحامد کی وصایائے مذکورہ باطل وبے اثرہیں،وہ تغییر حکم شرع جس پرکسی کوقدرت نہیں،پس صورت مذکورہ میں حسب شرائط فرائض ایك بھائی زید کاجوکچھ متروکہ ہے تمام وکمال وارثان سعیدہ کوپہنچے گا سعیدہ کاجوکوئی وارث وقت موت سعیدہ موجودتھا اس تمام حصہ کامالك ہے،
|
لان مالزید وصل لابنہ حامدومنہ لعرسہ سعیدۃ و بنتہ ھندۃ ومن ھندہ لامھا سعیدۃ لان ذوی الارحام لاارث لھم مع اصحاب الفرائض فجمعت سعیدۃ کل ما لزید۔ |
اس لئے کہ جوکچھ زیدکاہے وہ اس کے بیٹے حامد کو ملاپھرحامد سے اس کی بیوی سعیدہ اور بیٹی ہندہ کوملاپھرہندہ سے اس کی ماں سعیدہ کوملا کیونکہ اصحاب فرائض کی موجودگی میں ذوی الارحام وارث نہیں بنتے تو اس طرح جوکچھ زیدکاتھا وہ تمام سعیدہ کوپہنچ گیا(ت) |
رہادوسرے بھائی بکر کاحصہ،اس میں دوصورتیں ہیں،ایك یہ کہ انتقال بکرکے وقت زیدیاعمرو یاحامد کوئی زندہ تھا اس تقدیر پرحصہ بکرسے دوتہائی وارثان سعیدہ کاہے۔
|
لانہ یصیرا ثلاثا بین بنتہ والعصبۃ فماکان للعصبۃ یصل سعیدۃ کما قدمنا وماکان لزاھدہ تصیر لابنھا حامد ومنہ الٰی سعیدۃ۔ |
اس لئے کہ وہ بکر کی بیٹی اوراس کے عصبہ کے درمیان تین حصوں میں منقسم ہوگا پھرجوعصبہ کے درمیان تین حصوں میں منقسم ہوگا پھرجوعصبہ کے لئے ہے وہ سعیدہ کوپہنچے گا جیسا کہ ہم ذکرکرچکے ہیں اورجوکچھ زاہدہ کے لئے ہے وہ اس کے بیٹے حامد کوملے گا اور اس سے سعیدہ کوپہنچے گا۔(ت) |
دوسرے یہ کہ ان میں سے کوئی وقت انتقال بکرزندہ نہ تھا اس صورت میں حصہ بکر کانصف وارثان سعیدہ کاہے،
|
لانہ ینتصف بین بنتیہ فماکان لزاھدۃ یصل |
کیونکہ وہ اس کی دوبیٹیوں کے درمیان نصف نصف ہوگا پھر جو کچھ زاہدہ کوملاو ہ سعیدہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع