30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نکاح کاکوئی ثبوت نہیں اگریہ بیان واقعی ہیں توزید کاترکہ حسب شرائط معلومہ دوحصے ہوں کرنصف دخترموجودہ زید اورنصف بڑے چچا کے لڑکے کو ملے گا جومنکوحہ سے ہے اورباقی دونوں لڑکے اوربھانجے اوربھانجیاں سب محروم ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۸: ازقصبہ شاہ آباد ضلع ہردوئی ڈیوڑھی کلاں ۲۲ذیقعدہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین زادھم اﷲ شرفا کہ زید اوربکر دوبھائی حقیقی تھے،زید کا لڑکا عمرو اور عمروکالڑکاحامد اورحامد کی لڑکی ہندہ یہ لاولد فوت ہوئے زید کے لڑکے عمرو نے حامد کوبایں شرط اس مضمون کی وصیت تحریر کی"ہماری موروثی جائداد خاندان دیگرونسل وغیرہ میں منتقل نہ ہوگی"بعد فوت عمرو کے حامد قابض جائداد ہوئے حامد نے بھی ایك وصیت سعیدہ یعنی زوجہ خود ونیز دخترہندہ کو حسب شرائط تحریر کی"یعنی زوجہ منکوحہ سعیدہ اپنی حیات تك منتظم ومنصرم رہے گی،بعد وفات اس کے ہندہ نسلًا بعد نسلٍ مالك و وارث کل جائداد کی ہوگی"چونکہ ہندہ بموجودگی مسماۃ سعیدہ اپنی والدہ کے فوت ہوئی اوربعد چندسال کے سعیدہ بھی فوت ہوگئی جوکہ خاندان غیرسے تھی اوربکرکے د ودختریعنی زاہدہ اورعابدہ۔زاہدہ منسوب چچازادبھائی عمرو کو جس کالڑکا حامد اور حامد کی ہندہ جولاولد فوت ہوئی بلکہ شاخ بھی ختم ہوگئی باقی رہی عابدہ جو منسوب ہوئی محمود کوجن سے ہوئے خالد اور ان سے ہوئے ولید حی القائم،پس بموجب شرع شریف حنفی المذہب کے تقسیم حصص کیاہے اوروارث جائز کون ہے جبکہ عصبہ وذوی کوئی نہیں ہے۔بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپاؤگے۔ت) شجرہ مندرجہ ذیل ہے:

کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع