30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بہ النسب ولذا تکون بالفاسد فراشا لابالباطل، رحمتی[1]۔ |
اس میں وطی کرنازناہے جس سے نسب ثابت نہیں ہوتا بخلاف نکاح فاسد کے۔کیونکہ وہ وطی ہے شبہہ کے ساتھ جس سے نسب ثابت ہوجاتاہے۔اسی لئے عورت نکاح فاسد کے ساتھ فراش ہوجاتی ہے نہ کہ نکاح باطل کے ساتھ،رحمتی۔ (ت) |
ہاں عورت اپنامہر بہرحال پائے گی لحصول الوطء کما تقدم،واﷲ تعالٰی اعلم(وطی کے حاصل ہوجانے کی وجہ سے،جیسا کہ گزرچکاہے۔اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۱۰۷: ہدایت علی شہرکہنہ بریلی ۱۴ذیقعدہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیا اور اس کے دولڑکیاں تھیں،ایك لڑکی جو زید کی حین حیات میں فوت ہوگئی اس کاایك لڑکافی الحال موجود ہے اور ایك لڑکی اورتین چچازادبھائی عمر،بکر،خالد بعد فوت ہونے اپنے وارث چھوڑے،عمربڑے چچاکالڑکا اپنی شریف خاندانی منکوحہ ماں سے ہے اوردوسرے چچاکالڑکاایك چمارن غیرمنکوحہ عورت سے ہے جس کاختنہ بھی نہیں ہواہے،اورتیسرے چچاکالڑکا ایك رنڈی سے ہے جس کے نکاح کی تصدیق نہیں،اس صورت میں ترکہ کی تقسیم کیاہے؟بیّنواتوجروا۔
مکرریہ ہے کہ زیدمذکور کی تین بہنیں تھیں اور دس بسوہ اراضی زیدکو اور اس کی تینوں بہنوں کوموروثی باپ کے ترکہ سے ملی تھی۔ایك بہن زید کی لاولد فوت ہوگئی اوردوبہنیں وہ بھی زید کے سامنے فوت ہوگئیں مگران دوکے اولادہے ایك بہن کے ایك لڑکا،دوسری کے تین پسر اورایك دختر،تواب زید کے ان بھانجی بھانجوں کوترکہ زیدکاجوکہ اراضی تعدادی دس بسوہ ہے اور زید حین حیات میں اپنے بہنوں کے اس جائداد مذکورپر مالك اورقابض رہا اوربعد فوت اپنی تینوں بہنوں کے اس جائداد مذکور پرمالك اورقابض رہا کسی طرح تقسیم ہوگا یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
سائل نے ظاہرکیاکہ چماری کانکاح نہ ہواتھا،نہ یہ لڑکازید کے چچاکاتھا بلکہ چماری کے ساتھ آیا اور اس رنڈی کوپردہ نہ کرایاتھا بلکہ اخیرتك ویسی ہی بے پردہ پھرتی رہی اور اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع