30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال فی ردالمحتار بعد مابدل الشطر الاول الٰی ما ذکرنا لتصحیح الوزن،قولہ فساد عقد کان تزوج بغیر شھود[1] اھ فھذا ایضا نص انہ اذا نکح بغیر شھودتکون الفرقۃ فیہ فسخا ومعلوم ان لافسخ الا بانعقاد ثم المرأۃ لاترث بالنکاح الفاسد بل الولد فی الدر المختار یستحق الارث بنکاح صحیح فلاتوارث بفاسد ولاباطل اجماعا[2] قال الشامی قولہ،بفاسد ھو ما فقد شرط صحتہ کشھود ولاباطل کالمتعۃ[3] اھ و فیہ اٰخر باب ثبوت النسب انہ نکاح باطل،فالوطء فیہ زنا لایثبت بہ النسب بخلاف الفاسد فانہ وطء بشبھۃ فیثبت |
اورچوتھی کفوکامفقود ہونا عورت کوموت کی خبر سناتاہے اس قول تك کہ ان سب جدائیوں کوفسخ جمع کرتاہے۔ردالمحتار میں قسم اول کو جہاں تك ہم نے بیان کیا وزن کی تصحیح کے لئے کچھ تبدیل کرنے کے بعد فرمایا کہ ماتن کاقول"فسادعقد" جیسے کسی نے گواہوں کے بغیرنکاح کیاہو اھ۔تویہ بھی اس پر نص ہے کہ اگرگواہوں کے بغیرنکاح کیاتوجدائی بطور فسخ ہوگی اوریہ بات معلوم ہے کہ فسخ بغیر انعقاد کے نہیں ہوتا پھرنکاح فاسد کے ساتھ عورت وارث نہیں ہوتی بلکہ اولاد وارث ہوتی ہے۔درمختار میں ہے کہ میراث کا استحقاق نکاح صحیح کے ساتھ ہوتاہے نکاح فاسد اورنکاح باطل کے ساتھ بالاتفاق میراث جاری نہیں ہوتی۔شامی نے کہاکہ ماتن کے قول "نکاح فاسد میں میراث جاری نہیں ہوتی"میں نکاح فاسد سے مراد وہ نکاح ہے جس میں کوئی شرط صحت مفقود ہوجیسے گواہوں کاموجودہونا اور"نہ نکاح باطل میں میراث جاری ہوتی ہے"نکاح باطل کی مثال جیسے نکاح متعہ اھ۔اوراسی میں باب ثبوت نسب کے آخرمیں ہے کہ نکاح متعہ باطل ہے اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع