30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اگرجس وقت زید نے ہندہ سے ایجاب وقبول کیاتھا دومردمسلمان یا ایك مرد دوعورتیں مسلمان وہاں موجودتھے اور ان کا ایجاب وقبول سن رہے تھے اورسمجھتے تھے کہ یہ نکاح ہو رہاہے جب تونکاح ہوگیا،ہندہ اور اس کالڑکادونوں ترکہ زید میں اپنے اپنے حصے کے مستحق ہیں کچھ اس کی ضرورت نہیں کہ خاص کرکے دو۲شخصوں کوگواہی کے ساتھ نامزدکیاجائے جبھی تونکاح ہوا اوراگرواقع میں اس وقت زید وہندہ تنہاتھے یافقط ایك مرد یا صرف چندعورتیں یاکچھ غیرمسلمان کفار موجودتھے اورزید وہندہ نے ایجاب وقبول کرلیا تو نکاح نہ ہوا ہندہ ترکہ کی مستحق نہیں مگربیٹاحصہ پائے گا۔
|
لان النکاح بغیر شھود فاسد لاباطل والصواب التفرقۃ بین فاسد النکاح وباطلہ کما تشھد بہ فروع جمۃ وماشاع علٰی السنۃ من ان النکاح لاینعقد الا بشھود فالمراد الصحۃ بقول الدر یجب مھرالمثل فی نکاح فاسد ھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشھود [1] الخ۔ وفی ردالمحتار عن النھر،ان النکاح لہ فی قولھم فرق۔[2] فسخ طلاق وھٰذا الدر یحکیھا تبائن الدار مع نقصان مھرکذا فساد عقد وفقد الکفؤ ینعیھا الٰی قولہ وتلك الفسخ یحصیھا[3]
|
کیونکہ گواہوں کے بغیرنکاح فاسد ہے باطل نہیں اورصحیح یہ ہے کہ فاسد اورباطل نکاح میں فرق کیاجائے گا جیسا کہ تمام فروع اس پرگواہ ہیں،اورعام لوگوں کی زبانوں پرجومشہور ہو گیا ہے کہ گواہوں کے بغیرنکاح منعقدنہیں ہوتا اس سے مراد نکاح کاصحیح ہوناہے۔درکے قول کے مطابق کہ نکاح فاسد میں مہرمثل واجب ہوتا ہے اورنکاح فاسدوہ ہے جس میں صحت نکاح کی کوئی شرط مفقود ہو،جیسے گواہوں کی موجودگی الخ۔ رد المحتار میں نہر سے منقول ہے کہ مشائخ کے قول میں نکاح کی جدائیاں کئی قسم پرہیں فسخ اورطلاق۔اور موتی جیسی یہ نظم ان کوبیان کرتی ہے۔پہلی جدائی اختلاف دار،دوسری مہر کی کمی کے ساتھ نکاح کرنا،اسی طرح تیسری عقد کافاسد ہونا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع