30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وراثت نہیں جو حصہ اسے ماں سے پہنچا اسی کے بھائی وغیرہ ان وارثوں کا ہے جوموت مفقود کے بعد زندہ تھے اوراگرمعلوم ہو کہ زوجہ سے پہلے مراتو زوجہ بھی وارثہ ہے اورمفقود کے بھائی بھی وارث ہیں،جو حصہ حصہ مفقود میں زوجہ کوپہنچے اس کا وارث زوجہ کابھائی ہے یا اورجووارث زوجہ ہو،دیگروارثان مفقود کا اس میں حق نہیں،اواگر وہ شخص اپنی ماں کی موت کے بعد مفقودالخبرہوا تومتروکہ مادرمیں اس کاحصہ ثابت ہولیا اب وہ حصہ تقسیم نہیں ہوسکتا یہاں تك کہ اس کی موت وحیات ظاہرہویا اس کی پیدائش سے ستربرس گزرجائیں،اگرسترسال گزریں اور کچھ حال موت وحیات مفقودالخبر معلوم نہ ہوتوزوجہ مفقود اور نیزوہ تمام اشخاص جواس سترسال گزرنے سے پہلے مرچکے ہوں گے کچھ نہ پائیں گے،اس سترسال گزرنے کے وقت جو وارثان شرعی مفودکے لئے ہوں وہی مستحق ہوں گے اوراگرعمرکے سترسال گزرنے سے پہلے ظاہرہوجائے کومفقودزندہ ہے تو مال اس کاہے زوجہ وغیرہا کوئی وارث نہیں،اوراگرظاہر ہوکہ موت زوجہ کے بعد مراتو زوجہ وارث نہیں مفقود کے بھائی وغیرہ جوورثہ موت مفقود پر رہے ہوں وہ پائیں گے،اوراگرظاہرہوکہ زوجہ سے پہلے مراتوجوحصہ زوجہ کوپہنچے اس کے وارث زوجہ کے بھائی وغیرہ ہیں نہ کہ دیگروارثان مفقود۔اگرمفقود اپنی ماں کے بعد مفقود ہوا تو اس کے حصہ میں اسی کی مالکیت مندرج رہے گی یہاں تك کہ حال کھلے یاستر۷۰سال گزریں اورحسب تفصیل بالاورثہ کی طرف انتقال ہو،اوراگرموت مادر سے پہلے مفقود ہو توجس قدرموقوف رکھاجائے گا اس میں ہنوز کسی کانام درج نہیں ہوسکتا بلکہ حصہ موقوفہ ازترکہ فلاں بانتظار فلاں مفقود تامدت بست۲۰ سال ازیں تاریخ حاضراور پچاس سال کی عمرمیں مفقود ہوا توبجائے بست۲۰ سال دہ۱۰ سال لکھیں وعلٰی ھذالقیاس۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۶: شہربریلی محلہ بھوڑون نوازی میاں ۱۵شعبان یوم جمعہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ساتھ تعین مہر بدون گواہوں کے ایجاب قبول کرلیا۔ اور زیدکاہندہ کوحمل رہ گیا اور زیدمرگیا،اب ہندہ دادخواہ ہے ترکہ زید سے اپنے اوراپنے لڑکے کے حصہ کی۔وارثان زیدکہتے ہیں کہ تیراحصہ نہیں چاہئے ہم تجھ کونہیں دیں گے۔بیّنواتوجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع