30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ محض باطل تغییر حکم شرع ہے۔
|
قال تعالٰی فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ"[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:ان(بیویوں)کے لئے آٹھواں حصہ ہے اس وصیت کونکالنے کے بعد جوتم کرجاؤ اورقرض کی ادائیگی کے بعد۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۰۵: ازقصبہ چاندپور ضلع بجنور متصل تھانہ مرسلہ مولوی حکیم سیدمشتاق حسین صاحب
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین وعلمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے ترکہ میں کچھ جائداد موروثی چھوڑی تھی اور نو(۹)وارث چھوڑے تھے تین فرزندچھ دختران،اورہرکوئی اپنے حصے کاشرعًا مالك قراردیاگیامگرقبضہ اورتصرف فرزندوں کا رہا اورہنوز ہے لیکن منجملہ دختران کے ایك دختر کے دوفرزندوں میں سے ایك فرزند جوعرصہ دس سال سے مفقود الخبر ہے اس کی زوجہ نے فی الحال انتقال کیا اس عورت کے حصہ کاجواپنے خاوند مفقودالخبر کے حصہ کی مالك متصورتھی اب کون قراردیاجائے اور کس کانام کتاب میں درج ہو،آیا مفقودالخبرکابھائی ہوگا یا اس عورت کابھائی ہوگا یاحقیقت عود کرکے حصہ داران مذکوران تین فرزند ان کوجواب تك مالك وقابض ہیں پہنچیں گے؟ بیّنواتوجروا۔فقط
الجواب:
سائل نے کچھ نہ بتایا کہ یہ مفقودالخبراپنی ماں کے انتقال سے پہلے مفقودہواتھا یابعد،اگر زندگی مادرمیں مفقودالخبرہوچکاتھا توہنوز اس کااستحقاق حصہ مادر میں ثابت ہیں،جتنے ورثہ مادر بحال موت وحیات مفقودالخبر ہرحال میں جس قدر یقینی پائیں گے اتنا ان کو دے کرباقی موقوف رکھاجائے گا یہاں تك کہ مفقودالخبر کی موت وحیات کاحال معلوم ہویا اس کی عمر س سترسال گزرجائیں اورکچھ حال نہ کھلے پس اگر وہ زندہ ثابت ہوتوحصہ خود اس کاہے اس کی زوجہ وغیرہ کے لئے وراثت نہیں اور اس مدت تك کچھ حال نہ ظاہرہو یاثابت ہوکہ وہ اپنی ماں سے پہلے مرچکاتھا توخود اس کے لئے وراثت نہیں اس کی زوجہ وغیرہ کے لئے وراثت کیسے ثابت ہوگی،اوراگرثابت ہوکہ ماں کے بعد مراتواگرموت زوجہ بھی اس کی موت سے پہلے ہے زوجہ کے لئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع