30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دعوٰی اگرعورت تین سال یاکچھ زائد تك نہ کرے وہ ساقط ہوگایانہیں؟
الجوا ب:
مہرویساہی دین ہے جیسا کہ دیون۔اورمہراورتمام دیون تقسیم ترکہ پرمقدم ہیں جب تك مہروغیرہ سب دیون ادانہ ہولیں وارثوں پرتقسیم نہ ہوگی۔مہراوردیگردیون کوجب کہ جائداد کافی نہ ہوگی تومع مہرسب حصہ رسد اداہوں گے۔مہرکادعوٰی تین برس تك عائد نہ کرنے سے مہرشرعًا ہرگز ساقط نہیں ہوتا یہ محض جھوٹ ہے۔ شوہر کاجوقرضہ عورت نے بطورخود اپنازیور بیچ کراداکیاہے وہ اب عورت کادین ترکہ پرہوگیا مہرکے ساتھ اس کابھی حصہ اس کے لئے لگایاجائے گا اگراس نے باقی وارثوں سے ترکہ میں واپس لینے کی شرط نہ کرلی ہو ہاں اگرعدم واپسی کی شرط کرلے کہ یہ میں اپنی طرف سے اداکرتی ہوں او رواپس نہ لوں گی توالبتہ اس قدرکی واپسی کا استحقاق نہ ہوگا،جامع الفصولین میں ہے:
|
ولواستغرقھا دین لایملکہا بارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء اما لو ادی من مال نفسہ مطلقا بلاشرط تبرع او رجوع یحب لہ دین علی المیت فتصیرالترکۃ مشغولۃ بدینہ [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگرقرض ترکہ کا احاطہ کرلے توکوئی وارث بطورمیراث اس کا مالك نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ قرضخواہ میت کوقرض سے بری قراردے دے یاکوئی وارث اپنے مال سے میت کا قرض اداکردے اورادائیگی کے وقت تبرع کی شرط لگادے لیکن اگروارث نے مطلقًا یعنی تبرع یارجوع کی شرط کے بغیر اپنے مال سے قرض اداکردیا تو میت پراس وارث کاقرض لازم ہو جائے گا اورترکہ اس کے قرض میں مشغول ہوجائے گا۔(ت) |
مسئلہ ۱۰۳: ازبیرم نگر ڈاك خانہ شیرگڑھ ضلع بریلی مرسلہ غلام صدیق صاحب مدرس ۱۰شوال ۱۳۲۲ھ
زیدکاانتقال ہوا،اس نے ایك زوجہ،چاربھانجیاں اورچارچچازادبہنیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع