30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
بیان سائل سے واضح ہواکہ سیدمحرم علی کے عقائد مثل عقائد اکثرروافض زمانہ حدکفرتك پہنچنا معلوم نہیں،نہ کبھی ان سے کوئی بات ایسی سنی۔اورسید وزیرعلی وسیدمنیرعلی اوردونوں سیدانیاں غنی نہیں۔ پس صورت مذکورہ میں وہ مال انہیں چاروں بہن بھائیوں کوچھ حصے کرکے دیاجائے کہ دوحصے ہربھائی اورایك ایك ہربہن کوکہ اگرمحرم علی کے عقائد کفرتك نہ پہنچے ہوں جب تو ظاہر ہے کہ یہ بہن بھائی وارث ہیں اوراگرپہنچ گئے ہوں تو اس میں سے جتنا مال محرم علی کے زمانہ اسلام کاکمایاہوا ہو اس کے بھی وارث یہی بہن بھائی ہیں۔
|
فان کسب المرتد فی الاسلام لورثۃ المسلمین کما نص عی فی الدر[1] وغیرھا عامۃ الکتب۔ |
مرتد نے جوحالت اسلام میں کمایا وہ اس کے مسلمان وارثوں کے لئے ہے جیسا کہ دروغیرہ عام کتابوں میں اس پرنص کی گئی ہے(ت) |
اورجتنا مال زمانہ کفرکاکمایاہواہو وہ حق فقرائے مسلمین ہے اور یہ بہن بھائی بھی فقراء ہیں اغنیاء نہیں،توہرحال میں انہیں اس مال کااستتحقاق ہے،
|
وفی قسمتہ علیھم اثلاثا خروج عن العھد بیقین کما عرفت۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
ان پرمال تین حصے بناکرتقسیم کرنے میں یقینی طورپرذمہ داری سے فراغت ہے جیسا کہ توجان چکا ہے۔اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۰۲: ازشہربریلی محلہ کہنہ منشی شرافت علی بتاریخ ۲۷ جمادی الاول ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدقرضدارتھا اور اسی عرصہ میں فوت ہوگیاتوفرمائیے کہ اس کاترکہ قرضداروں کوملناچاہئے یاکہ بی بی کامہرملناچاہئے یاعزیزوں کوملناچاہئے اوربعد وفات اپنے شوہر کے بی بی نے کچھ قرضہ اپنا زیورفروخت کرکے قرضداروں کودیاتھامگروارثوں نے قرض اداکرتے وقت کچھ نہیں کہاتھا،توفرمائیے کہ وقت تقسیم ترکہ کے پہلے قرضداروں کوملناچاہئے یاکہ مہر بی بی کاملناچاہئے یااوروارثوں کو،اور ترکہ اس قدرنہیں ہے جوکہ سب کو کافی ہوسکے اور مہربی بی کابھی ویساہی قرضہ ہے جیسا کہ دوسرے قرضداروں کایانہیں،اورمہرکا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع